Karbala ki kahani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Farhan Ali Waris
آؤ اے اہل جہاں آؤ اے طفل و جواں
میں سناتا ہوں تمہیں ایک پیاسے کی کہانی
محمد کے نواسے کی کہانی
یعنی کربلا کی کہانی
رونے والوں سنو پرسہ داروں سنو
سوگواروں سنو ماتم داروں سنو
ایک حلقے میں آجاؤ ماتم کریں
قرض جو ہے لہو پر ادا ہم کریں
گھر محمد کا کس طرح لوٹا گیا
بس اسی غم میں کرنا ہے ماتم بپا
آنے والی ہر ایک نسل بین کرے
ساری دنیا حسین حسین کرے
میرے کم سن حسینیوں
کربلا کی کہانی سنو
اس کہانی میں زہرا کا گھر بار ہے
ان کا بیٹا جو جنت کا سردار ہے
مرکزی اس کہانی کا کردار ہے
اسکا ایک بھائی ہے جو علمدار ہے
تم تصور میں مقتل چلو
کربلا کی کہانیی۔۔۔
نصرتِ حق کے خاطر وہ گھر سے چلا
دو محرم کو پہنچے تھے کربوبلا
ماؤں بہنوں کا بچوں کا بھی ساتھ تھا
ساتویں سے مسافر کو پیاسا رکھا
اس مصیبت کا ماتم کرو
کربلا کی کہانیی۔۔۔
صبحِ عاشور کیسی عبادت ہوی
تیر چلتے رہے اور جماعت ہوی
اک ایک کرکے سبکی شہادت ہوئی
عصر کا وقت آیا قیامت ہوی
اپنے ہاتھوں سے دل تھام لو
کربلا کی کہانیی۔۔۔
اس طرف لاکھوں اور تھے بہت ادھر
کٹ گےء بن میں طفل و جواں سبکے سر
رہ گیا بن میں تنہا علی کا پسر
دی صدا ھل من کی شہ نے بہ چشمِ تر
ھل من ناصرن ینصرنا
اور پھر فرزند زہرا اکیلا ہوگیا
نہ اکبر ہے نہ قاسم ہے نہ عباس ہے
نہ عون و محمد ہیں
نہ کوئی انصار باقی رہا
مقتل میں امام حسین علیہ السلام
صدا دے رہے تھے
ھل من ناصرن ینصرنا
کوئی ہے جو میری نصرت کے لئے آے
سن کے استغاثہء شہ کربلا
وہ جو اک بھائی شہ کا علمدار تھا
اس کا ساحل پہ لاشہ تڑپنے لگا
شہ نے حسرت سے چاروں طرف کی نظر
کوئی بھی تو نہیں تھا وہاں
الغرض شہ نے لشکر پہ حملہ کیا
اور رجز یہ پڑھا
جنگ اب اسکی دیکھو زرا شامیوں
جسکا کوئی نہ باقی رہا شامیوں
جس کے قاسم کو ٹکڑے کیا شامیوں
ہوے عون و محمد جدا شامیوں
جسکا انصار اک نہ رہا شامیوں
جسکا عباس جیسا برادر گیا
جس کے اکبر کے سینے میں نیزہ لگا
بے زباں بھی گیا
اور کچھ دیر میں سرخ دریا کا پانی ہوا
اور پھر ہاتف غیبی کی آی صدا
یا ایتھاالنفس المطمینہ
ارجعی الا ربیکا راضیتن مرضیہ
جب امام حسین علیہ السلام نے اس صدا کو سنا
تو پھر اپنی تلوار کو میان میں رکھ لیا
اور پھر اک صدا بلند کی
آؤ اے تیروں آؤ اے تلواروں
آؤ اے پتھروں مجھ پہ آ برسو
بس مولا کی صدا بلند ہوئی
کہیں سے تیر چلے کہیں سے تلوار چلی
کہیں سے پتھر برسے
اور میرے مولا حسین لہو لہان ہو گےء
لاکھوں کے لشکر میں ایسے بھی لوگ تھے
کہ جس کے ہاتھ میں جو چیز آی اس نے
امام حسین علیہ السلام پہ برسانا شروع کی
تنہا ہوگیا فاطمہ کا لال
چور زخموں سے زہرا کا لختِ جگر
گر گیا پشت رہوار سے خاک پر
آندھیاں سرخ چلنے لگی
اور زمیں خوں اگلنے لگی
کند خنجر چلا حلق شبیر پر
ایک ٹیلے پہ زینب نے روکر کہا
ہاے حسینا ہاے حسینا
کربلا کی کہانیی۔۔۔
بعد قتل شہ دیں جفا یوں ہوی
ہوگےء بن میں پامال لاشے سبھی
سر سناں پر گےء لاش بن میں رہی
بن میں نقارے بجنے لگے اس گھڑی
اس مصایب پہ گریہ کرو
کربلا کی کہانیی۔۔۔
دن ڈھل گیا شام آگیء
آگےء لوٹنے بی بیوں کو شقی
سارے خیمے جلے سبکی چادر چھنی
تپتا صحرا تھا بس اور آل نبی
اور پہرے پہ بنت علی آگیء
روتے روتے یہ شب کاٹی سادات نے
صبح ہوتے ہی سادات قیدی بنے
اک رسن ظلم کی اور بارہ گلے
طوق و زنجیر میں مولا سجاد تھے
جانب شام اہل حرم جب چلے
اک ایک لاش بے سر پہ روتے ہوئے
بین زینب کے تھے لاش شبیر پہ
جانب شام جاتے ہیں ہم سر کھلے
میری حسرت ہے ماتم تیرا نہ رکے
اور مظہر تیرے یہ مصائب لکھے
تیرا فرحان تیرے مصائب پڑھے
ساری دنیا تیری یہ کہانی سنے
آنے والی ہر اک نسل یہ بین کرے
کتنا طویل ہے حسین کا سفر
اک نسل ختم ہوتی ہے
دوسری نسل تیار کھڑی ہے
سوچو تو عقل حیران ہے
اک شخص کیء صدیوں بعد بھی
دلوں پر حکمرانی کر رہا ہے
یہ تھی کربلا کی کہانی
یہ تھی ایک پیاسے کی کہانی
محمد کے نواسے کی کہانی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.