Karbala hogi jo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Sajid Jafri
کربلا ہوگی جو برپا تو قیامت ہو گی
دشت میں آے نگی زہرا تو قیامت ہوگی
رن میں اکبر سے تڑپتے ہوی بولی سرور
تیرے سینے میں جو پیوست ہے میرے دلبر
میں نے کھینچا جو یہ نیزہ تو قیامت ہوگی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
شہ نے دیکھا تھا بھتیجے کی طرف کچھ ایسے
آنکھوں آنکھوں میں ہی قاسم سے کہا ہو جیسے
تو نے تعویذ جو کھولا تو قیامت ہوگی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
بارہا شاہ نے عباس کو روکا ہوگا
ایسا لگتا ہے یہ شبیر نے سوچا ہوگا
چھد گیء مشک سکینہ تو قیامت ہوگی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
حرملہ نے جو کماں دشت بلا میں کھینچی
بس یہی سوچ کے بانو پہ قیامت گزری
تیر اصغر نے جو کھایا تو قیامت ہوگی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
شمر کو دیکھ کے زہرا نے پکارا ظالم
تین شب روز کا پیاسا ہے ٹہر جا ظالم
تو نے خنجر جو چلایا تو قیامت ہوگی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
دیکھ کر فوج یزیدی کو پکاری زہرا
سینۂ شاہ پہ اصغر کا ہے بے سر لاشہ
تم نے گھوڑوں سے جو روندھا تو قیامت ہو گی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
بھای کی لاش پہ روے گی بہن یہ کہہ کر
کیسے میں تجھکو کفن دوں نہیں سر پر چادر
وقت جس وقت یہ آیا تو قیامت ہو گی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
ہر عزادار کو مجلس میں بتا دو یاصر
سیدہ آی ہے کچھ اشک عزا کی خاطر
کوئی مجلس میں نہ رویا تو قیامت ہو گی
کربلا ہوگی جو برپا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.