Kafan auno mohd
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ameer Hasan Aamir
پرایا دیس ہے غربت ہے ماں یہ سہہ نہ پائے گی
کفن عون و محمد تم کو زینب دے نہ پائے گی
جواں ہونے سے پہلے بے خطا مارا گیا تم کو
تھے پیاسے تین دن سے پھر بھی نہ پانی دیا تم کو
تمہارے بن تمہاری ماں بھی زندہ رہ نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
یہ سورج کی تپش جلتی زمیں زخمی بدن ہاے
نہیں ہے پاس کچھ ماں کے تمہیں کس طرح دفناے
کفن کے بن مگر تدفین ہر گز ہو نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
ہوے ارمان میرے خاک سب کربوبلا آ کر
جنہیں پالا تھا نازوں سے انہیں کو دشت میں کھو کر
یہ دکھیا غم زدہ آفت رسیدہ جا نہ پاے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
غموں نے ایک دن میں ہی ضعیفہ کر دیا مجھکو
بھرا گھر قتل کر ڈالا میرا میں روؤں کس کس کو
کسی بھی لاش پہ جی بھر کے زینب رو نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
تمہاری کمسنی پر بھی کسی نے رحم نہ کھایا
تمہیں مارا گیا پھر جسم پہ گھوڑوں کو دوڑایا
ہے لاشے ٹکڑوں میں دونوں کے مادر چن نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
میں تڑپاونگی ہر ایک لمحہ کبھی نہ چین پاؤں گی
رہوں گی جب تلک زندہ فقط آنسوں بہاؤں گی
تمہیں روے گی ماں دن رات ہر گز سو نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
سروں سے چادریں چھنتی ہیں سامان لوٹے جاتے ہیں
قیامت ہو گیء اہل ستم خیمے جلاتے ہیں
بہن عباس کی بے پردہ رہ کر جی نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
گھرا ہے شعلوں میں کس طرح عابد کو نکالوں میں
دلاسہ بیوؤں کو دوں یا یتیموں کو سنبھالوں میں
بدن زخمی ہے سارا پھر بھی زینب رک نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
قمر بکنلوی زینب ہوی جس دم رسن بستہ
بڑی حسرت سے عامر دونوں لاشوں کی طرف دیکھا
کہا پھر لاشوں سے ماں جاتی ہے اب کہہ نہ پائے گی
کفن عون و محمد۔۔۔
پرایا دیس ہے غربت۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.