Jal gaye zainulliba ke
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shareef Hussain
جل گےء زین العبا کے گھر نظر کے سامنے
چھن گےء ہمشیر کے گوہر نظر کے سامنے
مثل تصویر پیمبر اکبر ذیشان کو
ماں نے دیکھا رات بھر رکھ کر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
قبلہ رخ مولا نے رکھ کر شکر کا سجدہ کیا
خون میں ڈوبا لاشہء اکبر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
بولے سرور کیا تمہاری ماں کو اب دوں گا جواب
تم تو اصغر چل بسے ہنس کر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
سینۂ شہ پر ہے قاتل ہاے زینب کیا کرے
چل رہا ہے حلق پر خنجر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
بخشش امت کی اس دم بھی لبوں پر تھی دعا
کٹ رہی تھی گردن سرور نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
گرتی پڑتی بھای کے نزدیک جب پہنچی بہن
بھای کا تھا لاشہء بے سر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
پانی اعدا کو دیا لیکن سکینہ کو نہیں
شمر نے پھینکا ہے دکھلا کر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
کربلا والوں پہ جو گزری ہے انور وہ لکھا
تھا تصور میں ہر ایک منظر نظر کے سامنے
جل گےء زین العبا کے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.