Jahan hussain wahan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
حسین حسین حسین
چراغ جلتا رہا
جو قافلہ تھا رواں وہ قافلہ ہے رواں
سفر بہ نوکِ سِناں سناں کے ساتھ اذاں
بریدہ سر کی صدائیں فضا میں پھیل گیء
دریچوں آنگنوں گلیوں میں تپتے صحرا سے
زمین و عرش کھلاؤں سے اور فضاؤں سے
دنوں میں رات جنگل میں کہ سراؤں سے
صداییں آنے لگی اشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ
یہ ایک بار ہوا اور لا زوال ہوا
سناں کی نوک سبحان ربی الاعلی
پکارا کلمہء توحید بھی جزاک اللہ
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
حسین دین بھی ہے اور دینیات بھی ہے
حسین کلمۂ توحید کی حیات بھی ہے
حسین رمز خدا بھی خدا صفات بھی ہے
حسین بارہ اماموں کی کاینات بھی ہے
حسین سے ہے عیاں لا الٰہ الا اللّٰہ
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
وہ گود فاطمہ زہرا کی ہو کے ریگ تپاں
وہ صحن کعبہ ہو پشت رسول یا کہ سناں
فضاے جنگ ہو یا ہو پیام امن و امان
نہ دیکھے تیر نہ تلوار گر ہو حکم اذاں
حسین کا ہے بیاں لا الٰہ الا اللّٰہ
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
حسین والوں کی پہچان ہے عزاداری
حسین والوں کی تو جان ہے عزاداری
حسین والوں کا ایمان ہے عزاداری
حسین والوں کا اعلان ہے عزاداری
حسینیت کی زباں لا الٰہ الا اللّٰہ
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
بسی ہے کربوبلا تو کوئی جواز بھی ہے
لٹا ہے گلشنِ زہرا تو کوئی راز بھی ہے
یہ راز وہ ہے کہ خالق کو اس پہ ناز بھی ہے
برائے ناز بہتر کی وہ نماز بھی ہے
اسی کا سر نہاں لا الہ الااللہ
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
نماز نفس کی عزت ہے اولیاء کے قسم
نماز دین کی حرمت ہے اوصیاء کے قسم
نماز حسن شرافت ہے انبیاء کی قسم
نماز قصہء وحدت ہے کبریا کی قسم
نماز خیر عمل کی طرف بلاتی ہے
نماز عشق خدا کا ہنر سکھاتی ہے
نماز ابد کو معبود سے ملاتی ہے
نماز گفتگو اللّٰہ سے کراتی ہے
یہی نماز گناہوں سے بھی بچاتی ہے
نماز قبر تلک ساتھ ساتھ جاتی ہے
لا الٰہ الا اللّٰہ
نماز وہ ہے جو فاقوں میں مصطفٰی نے پڑھی
جگا کے اپنے ہی قاتل کو مرتظی نے پڑھی
جو چکیوں کی مشقت میں فاطمہ نے پڑھی
گلے لگا کے زہر کو جو مجتبیٰ نے پڑھی
جو چاہتا ہے کہ عظمت نماز کی دیکھیں
میرے حسین کا وہ سجدہ آخری دیکھیں
پڑھی نماز جو عابد نے پشت ناقہ پر
ادا کیا جسے باقر نے سختیاں سہہ کر
بیاں کیا جسے جعفر نے بر سر ممبر
رکوع میں برسوں رہے جس کے کاظم مضطر
رضا نے لب پہ سریع الرضا سجا کے پڑھی
تقی نے تقوہء بو طالبی بتا کے پڑھی
نقی نے نقوت باطل مٹا مٹا کے پڑھی
اور عسکری نے خبر آخری سنا کے پڑھی
پس نماز مصلے پہ رو رہا ہے کوئی
امام عصر ہے اور حجت خدا ہے وہی
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
وہ خیمہ گاہ وہ سیدانیاں وہ ذکرِ خدا
جہاں مصلے پہ زینب رباب اور فضہ
حسن کی بیوہ رقیہ سکینہ کا سجدہ
تمام بی بیاں کرتی تھی صرف ایک دعا
میرے خدا ہمیں منظور کہتے آب رہے
حسین اپنے ارادوں میں کامیاب رہے
صدائے تشنہ لباں لا الٰہ الا اللّٰہ
جہاں حسین وہاں لا الٰہ الا اللّٰہ
خطیبِ نوکِ سِناں لا الٰہ الا اللّٰہ
مگر نماز سے پوچھو کہ کربلا کیا ہے
حسین اور تیرا رشتہء وفا کیا ہے
کہا نماز نے سن لو میری بقا کیا ہے
بس ایک سجدۂ شبیر کے سوا کیا ہے
حسین ہی کا گھرانہ بچا گیا مجھکو
وہ خود اجڑ گیا لیکن سجا گیا مجھکو
میان کربوبلا آہ میں نے کیا دیکھا
گھرا لعینوں میں کنبہ رسول کا دیکھا
بتول زادوں کو بے آب و بے غذا دیکھا
بہاتا پانی ادھر لشکر جفا دیکھا
نماز پڑھتے رہے دل میں اضطراب نہ تھا
گزر گےء تھے کیء دن کے گھر میں آب نہ تھا
بتاؤں کیسے کہ دسویں کو میں نے کیا دیکھا
سحر ہوی تو شہادت کا سلسلہ دیکھا
کسی کا سینہ تو زخمی کوئی گلہ دیکھا
لب فرات علم خون میں بھرا دیکھا
حسین لاشوں پہ لاشیں یونہی اٹھاتے رہے
اور اپنی راہ شہادت کی سمت جاتے رہے
کمر رکوع کی طرح تھی مگر حسین اٹھے
کہ اہلِ ظلم پہ لازم تھا اب کہ تیغ چلے
غضب کے تیغ چلی کوئی روکتا کیسے
امام وقت تھے اللّٰہ کی رضا پہ رکے
اذان عصر سنی دیکھا عالم بالا
کہا حسین نے سبحان ربی الاعلیٰ
آی صداے غیب عبادت کا وقت ہے
اے فاطمہ کے لال تلاوت کا وقت ہے
جنت میں صف بندھی ہے امامت کا وقت ہے
بس بس حسین بس یہ عبادت کا وقت ہے
رکھ لی میان میں شہ والا نے ذوالفقار
وہ غول باندھے آے کماں دار دس ہزار
وہ بے شمار تیغوں کے پھل اور ایک حسین
وہ سیکڑوں پیام اجل اور ایک حسین
ڈوبے ہوے تھے خون میں گیسوں حسین کے
تیروں نے چھان ڈالے تھے پہلو حسین کے
نیزے کا بنے وحاب نے پہلو پہ کیا وار
کاندھے پہ چلی ساتھ زرارا کی بھی تلوار
ناوک بن کاہل کا کلیجے کے ہوا وار
بازو میں در آیا تبر خولیء خون خار
تیغیں اپی ہوی جو برابر سے چل گیء
غش آ گیا قدم سے رکابیں نکل گیء
کیوں کر کہوں کہ عرش خدا خاک پر گرا
خیرالنسا کا ماہ لقا خاک پر گرا
ریتی پہ مصطفیٰ کے جگر کا لہو گرا
سید گرا امام گرا نیک خوں گرا
وہ ظلم ہو رہا تھا کہ دنیا الٹتی تھی
جب زیر تیغ گردن شبیر کٹتی تھی
وہ کند تیغ زینب و زہرا پہ چلتی تھی
ماتم کناں نماز تھی اور خون روتی تھی
جاری تھی یہ صدا کہ نبی کا نواسا ہوں
اماں پلاؤ پانی میں پیاسا ہوں
عجب ادا سے جب نمازی نماز پڑھکے گیا
بہن کے سامنے نوکِ سِناں پہ چڑھ کے گیا
نظر میں بھای کے سجدے کی آب و تاب جو تھی
بہن نے سر کھلے مقتل میں مغربین پڑھی
نظر کے سامنے ہر مہ لقا کی لاش رہی
مگر جلے ہوے خیموں کی جانماز بچھی
غمِ حسین کی برچھی اٹھا گیء زینب
مگر نماز کی دنیا بسا گیء زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.