Jab ran mein alamdar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ali Rizvi Sachay
جب رن میں علمدار کی شمشیر چلی ہے
آی ہوی بالیں پہ قضا کس کی ٹلی ہے
یوں پنجتن پاک کا گلدستہ سجا ہے
دو پھول ہے دو غنچے ہے اور ایک کلی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
جبریل بچھاتے تو ہو پر اپنے زمیں پر
پر اتنا سمجھ لینا کہ یہ تیغ علی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
حق نے ہمیں بھیجا ہے پے ماتم سرور
دنیا کی نہیں رسم یہ فرض اذلی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
بانو کے یہ نالے تھے کہ آجاؤ اب اصغر
پھیلاے ہوے ہاتھ یہ ماں کوک جلی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
کہتی تھی یہ زینب کہ یہ نہ یوں مار طمانچے
اے شمع سکینہ بڑے نازوں سے پلی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
تھے شمر کے دربار یزیدی میں اشارے
وہ بیوہء عباس ہے یہ بنت علی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
بے گور و کفن چھوڑ کے آغوش کے پالے
زینب تو رسن بستہ سوے شام چلی ہے
جب رن میں علمدار کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.