Jab hum ne suni
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Afzal Mirza
جب ہم نے سنی مسجد سے اذاں
ہمشکل پیمبر یاد آے
تکبیر کی آی جیسے صدا
ہر ایک کو اکبر یاد آے
ہنستا جو کوئی بچہ دیکھا
چھ ماہ کے اصغر یاد آے
یاد آی ہم کو کربوبلا
اک دکھیا مادر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
خط بھیج کے یہ صغرا نے کہا
کیا بھول گےء مجھکو بابا
دیدار کو ترسی ہے دکھیا
ہر وقت برادر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
اب عصر کا سورج ہے ڈھلتا
اور شمر کا خنجر ہے چلتا
شبیر کا ایسا ہے سجدہ
کہ سجدۂ حیدر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
کیسی ہے مصیبت رنج و الم
کوفے میں برہنہ سر ہے حرم
ہر سمت کھڑے ہیں نہ محرم
تطہیر کی چادر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
معراج حیدر تھی نیزے پر
رکتا ہی نہ تھا عباس کا سر
کہتی ہے یہ زینب رو رو کر
بازار کے منظر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
زندان سے قیدی جب چھوٹے
اور واپس یثرب میں پہنچے
دل أہل مدینہ کے ٹوٹے
ہر ایک کو سرور یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
کہتی تھی سکینہ اماں جاں
بے شیر میرا بھیا ہے کہاں
کیا اس سے کہا دکھیاری ماں
بے ساختہ اصغر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
جب گھر میں بنا کوئی دولہا
یاد آ گیا قاسم کا سہرا
نوحہ بھی پڑھا ماتم بھی کیا
اور دلبر شبر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
جس جاہ پر کہیں پانی برسے
اور دیکھے ہم نے کھیت ہرے
اصغر کا لہو رخ پر اپنے
ملتے ہوئے سرور یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
ہے کون منیر اپنا ہمسر
کیونکر ہو ہمیں خوف محشر
ہو آنکھ غمِ شبیر میں تر
اور نزع میں حیدر یاد آے
جب ہم نے سنی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.