Hussain haye hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ali Yazdan
کہاں سے لاؤں بھرا گھر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر حسین ہاے حسین
تمہارے بعد تو اب جب بھی شام آتی ہے
سروں کو در سے پٹکنے کی کام آتی ہے
برستے رہتے ہیں آنکھوں سے تا سحر سبکی
لہو بھرے ہوے منظر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر۔۔۔
پلٹ کے عون و محمد بھی گھر نہیں آتے
اب ام لیلیٰ کو اکبر نظر نہیں آتے
تڑپتی رہتی ہے قاسم کی یاد میں فروہ
رباب کہتی ہے اصغر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر۔۔۔
گزر گےء ہیں کیء دن نہ صبر ہے نہ قرار
تمہیں بلاتی ہے راتوں کو نیند میں کیء بار
کبھی کبھی یہاں ہم سب سے چھپ کے کونے میں
سکینہ روتی ہے اکثر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر۔۔۔
کٹے جو پانی کی خاطر قریب نہر فرات
وہی تو تھے میرے بازو وہی تو تھے میرے ہاتھ
ملا ہوا ہے دل و جاں میں زخم کی صورت
ہے جسکا نام الم پر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر۔۔۔
بدن تھا جسم علی کا لہو رسول کا تھا
جگر حسن کا تھا سینے میں دل بتول کا تھا
وہ جسم چھوڑ کے آی ہوں تپتے صحرا میں
وہ سر ہے نوکِ سِناں پر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر۔۔۔
جو ہم پہ ٹوٹ گیا آسمان رنج و محن
قیام قید میں ہوتا ہے اور سفر میں رسن
اسیری بے بسی و بیکسی کے عالم میں
میرا سلام ہو تم پر حسین ہاے حسین
پکاری زینب مضطر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.