Hussain al ghareeb
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ali Safdar
حسین العریب الغریب الحسین
حسین اش شہید اش شہید الحسین
دہائی دہائی خدارا دہائی
یہ دشت بلا میں ہے کیسی تباہی
بہایا ہے کس نے یہ خونِ محمد
قیامت یہ ڈھای ہے کس نے الہی
جوانوں بزرگوں کو مارا گیا ہے
شہیدوں میں شامل ہے ننھا سپاہی
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
کیا جشن برپا یوں أہل حوس نے
شہیدوں کے لاشوں پہ ڈنکے بجاے
جلا ڈالے آل محمد کے خیمے
سکینہ کے منہ پر طمانچے لگاے
جو بیمار تھا اس کا بستر نہ چھوڑا
نبی زادیوں پر بھی درے چلاے
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
اٹھی اپنے مرقد سے بنت محمد
سیاہ شب کی چادر میں چہرہ چھپا کر
گیء کربلا میں تو اس نے یہ دیکھا
ہے بوسیدہ کرتے میں ایک لاش بے سر
بدن سارا تیروں سے چھلنی پڑا ہے
لہو میں ہے ڈوبا ہوا سارا پیکر
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
تڑپ کر وہ چلای شبیر بیٹا
لہو میں نہاے ہو سر بھی جدا ہے
تبر کس نے مارے ہیں سارے بدن پر
یہ تیروں پہ کس نے جنازہ رکھا ہے
کہاں ہے میرا لال عباس بولو
میں پوچھوں گی اس سے یہ کیسے ہوا ہے
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
صدا سن کے زہرا کی تھراے غازی
جدا تن سے سر تھا دو شانے کٹے تھے
غم و یاس و حسرت میں مجروح و مضطر
کہے کیا کے دریا کنارے پڑے تھے
سوے علقمہ اب جو بی بی نے دیکھا
وفاؤں کے ساحل پہ جھنڈے گڑھے تھے
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
ادھر درد و غم کی ستای تھی زینب
جو وحشت کے جنگل میں حیدر بنی تھی
کبھی خاک اڑاتی کبھی اشک پیتی
جو کنبے کے پہرے پہ تنہا کھڑی تھی
سکینہ کے سقہ کو آواز دے کر
غمِ شاہ دیں میں بکا کر رہی تھی
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
کبھی دل میں دیتی وہ ماں کو صداییں
کبھی رو کے کہتی کہ بابا کہاں ہو
شہیدوں کا نوحہ تھا اس کی زباں پر
ابد کس طرح اس کے غم کا بیاں ہو
ہمیں بھی سعادت ہو نصرت کی حاصل
خدارا ظہورِ امام زماں ہو
حسین العریب۔۔۔
حسین اش شہید۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.