Zainab ko ghazi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shadman Raza
ہاے بازار شام جا کر
زینب کو غازی یاد آیا
آنکھوں سے خون جاری
سر پر ردا نہیں تھی
زخمی حرم کے دل تھے
کوی دوا نہیں تھی
جب درے لگے بدن پر
زینب کو غازی۔۔۔
سادات پہ برہنہ
کاٹوں بھرے تھے رستے
روتے تھے جب یہ قیدی
بے درد لوگ ہنستے
جب دیکھی سناں پہ چادر
زینب کو غازی۔۔۔
ہمشیر روئی اس پر
تقدیر روئی اس پر
بیمار جب بھی رویا
زنجیر روئی اس پر
گلیوں پہ برسے پتھر
زینب کو غازی۔۔۔
جو ملکۂ حیا تھی
راہوں میں بے ردا تھی
یہ سوچ کر ہی زینب
بس محوِ مرثیہ تھی
شیریں کے گھر میں جا کر
زینب کو غازی۔۔۔
اس سے بڑی قیامت
کیا اور ہو گی لوگوں
عابد نے اپنے سر کو
کیوں نہ اٹھایا سوچو
وہ کہتا تھا بس یہ رو کر
زینب کو غازی۔۔۔
عباس کی بہن پر
اک ایسا وقت آیا
دربار میں ستم کے
شمر لعیں پکارا
ہے کون شہ کی خواہر
زینب کو غازی۔۔۔
نکلی تھی جب وہ گھر سے
منظر وہ یاد آیا
نظریں جھکاؤ لوگوں
عباس نے کہا تھا
اب شام میں کھلے سر
زینب کو غازی۔۔۔
اٹھارہ بھائیوں کی
ہمشیر اور کھلے سر
اے لوگوں ترس کھاؤ
زینب کو دیدو چادر
فضہ جو بولی رو کر
زینب کو غازی۔۔۔
دربار میں گئی تھی
اک روز فاطمہ بھی
لیکن ردا تھی سر پر
بیٹوں سے تھی تسلی
یاد آیا اسے یہ منظر
زینب کو غازی۔۔۔
گزری جو بی بیوں پر
کیا شادماں سنائے
مظہر میرا کلیجہ
صدموں سے پھٹ نہ جائے
بس رو کو قلم یہ کہہ کر
زینب کو غازی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.