Ho ke mehmaan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Asghar Party
ہو کے مہمان محمد کا نواسہ آیا
دشتِ خوں خار میں لختِ دل زہرا ہے
تم مسلماں ہو در و بام چراغاں نہ کرو
شامیوں لٹ کے محمد کا گھرانہ آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
کوفیوں شرم سے آنکھوں کو جھکائے رکھنا
ننگے سر حیدر کرار کا کنبہ آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
شاہ نے کھینچ تو لی سینہ اکبر سے سنان
ساتھ لپٹا ہوا برچھی سے کلیجہ آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
خوں میں ڈوبی ہوی اکبر کی جوانی دیکھی
ہاے آیا بھی تو کب قاصد صغرا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
جو کہ گزری علی اصغر پہ وہ روداد نہ پوچھ
ہاے پیاسا لب دریا سے بھی پیاسا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
قید خانے میں صدا گریہء زاری کی ہے
طوق و زنجیر کو سجاد پہ رونا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
احمد و زہرا و حیدر کو حسن کو شاہ کو
حرملہ تیر سے کس کس کو نہ تڑپا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
راہ گزاروں یہ صدا گریہء زہرا کی ہے
کون بیمار یہ زنجیروں میں جکڑا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
قید کر کے سر بازار پھرایا ان کو
جن کے گھر ہی سے مسلمانوں میں پردہ آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
راہ تکتی رہی بچی کا جگر تھام کے ماں
خوں میں ڈوبا ہوا بے شیر کا لاشہ آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
کہیں بانو کہیں زینب کہیں لپٹی ہے رباب
ایک قیامت لےء آغوش میں جھولا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
ہاے اس بی بی کی مایوس نگاہیں شمسی
لوٹ کر جس کا چچا اور نہ بابا آیا
ہو کے مہمان۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.