Zainab ke saath
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Hasan Sadiq
زینب کے ساتھ فضہ ہائے شام جا رہی ہے
ہر گام پر ضعیفہ صدمے اُٹھا رہی ہے
ہو شام ہو یا کوفہ غازی کے بعد فضہ
زہرا کی بیٹیوں کا پردہ بنا رہی ہے
زینب کے ساتھ۔۔۔
اس دن کے واسطے ہی مانگی تھی زندگانی
یوں کہہ کے تعزیانے مظلوم کھا رہی ہے
زینب کے ساتھ۔۔۔
پابند رسن ہوکے چلی کربوبلا سے
سنگ زینب و کلثوم کے بازار میں آی
سو ظلم سہے صدقے مگر ہاتھ نہ چھوڑا
فضہ نے ضعیفی میں وفا خوب نبھای
چھوڑا نہ ظلم سہہ کر زینب کا ساتھ اس نے
زہرا سے جو کیا تھا وعدہ نبھا رہی ہے
زینب کے ساتھ۔۔۔
بازار شام کا ہے زینب کا سر کھُلا ہے
سر کو جھُکائے فضہ آنسو بہا رہی ہے
زینب کے ساتھ۔۔۔
یاد آتا ہے زہرا کے جنازے کو اٹھانا
زینب کو وہ گستاخ نگاہوں سے بچانا
یہ شام کے بازار سے آتی ہیں صدائیں
فضہ کی وفاؤں کو نہ بھولے گا زمانہ
کندھے پہ کل اسی کے زہرا کا تھا جنازہ
سنگ آج قید ہو کے زینب کے جا رہی ہے
زینب کے ساتھ۔۔۔
جواد اشک خون کے سجاد کیوں نہ روئے
ملکِ وفا کی ملکہ دُنیا سے جا رہی ہے
زینب کے ساتھ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.