Gurohe chaak gariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Jahan
جو فاطمہ کی رگ جان علی کا ہے دلبر
حسین منی کہے جس کو شافع محشر
وہ جس کا کر دیا تاراج کربلا میں گھر
مصیبتوں کی حدیں ختم ہو گیء جس پر
گروہ چاک گریباں سلام کرتا ہے
قیام شہ کا نگہباں حسین کا بھای
وہ جس نے کی تھی سکینہ کی رن میں سقای
لب فرات کٹے ہاتھ جس کے موت آی
وفا نے جس سے جہاں میں حیات نو پای
گروہ چاک گریباں۔۔۔
نہ ماں کا دودھ نہ پانی ملا جسے وہ صغیر
وہ جس کو دیکھ کے ٹکڑے جگر ہو وہ بے شیر
وہ جس کو لے گےء میداں میں حضرت شبیر
وہ جس کا ننھا گلا اور حرملہ کا تیر
گروہ چاک گریباں۔۔۔
جو قوت دل لیلیٰ تھا خوبرو وہ جواں
وہ جس کو دیکھ کے ہوتا تھا مصطفی کا گماں
وہ جس نے عین جوانی میں کھای دل پہ سناں
وہ جس کے بیاہ کا مادر کو رہ گیا ارماں
گروہ چاک گریباں۔۔۔
وہی جو تھے شہ کربوبلا کے دل کا چین
وہ کم سنی میں جنہیں موت آی ہاے حسین
تھا جن کی موت سے خیموں میں اک شور و شین
وہ یعنی زینب عالی نصب کے نور عین
گروہ چاک گریباں۔۔۔
وہ جس کو سینے پہ اپنے سلاتے تھے سرور
وہ جسکے کانوں سے ٹپکا لہو چھنے گوہر
یتیم جان کے توڑی مصیبتیں جس پر
رہی اسیروں کی جو شام تک شریک سفر
گروہ چاک گریباں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.