Ghareeb ka ye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Raza Abbas Zaidi
کبھی یہ شیریں کے گھر ملا ہے
کبھی یہ راہب کے گھر گیا ہے
کبھی شجر پہ رسن سے باندھا
کبھی یہ صندوق میں رکھا ہے
نہ جانے اسکا سفر ہے کیسا
نہیں ہے مظلوم کوئی ایسا
غریب کا یہ غریب سر ہے
جو در بدر ہے
ہے ریش جسکی لہو میں ڈوبی
رگیں بھی سوکھی ہوئی ہیں اسکی
بھری ہے زلفوں میں خاک ہائے
کٹے ہیں لب اور جبیں ہے زخمی
عیاں ہیں چہرے سے غم بَلا کے
ہو جیسے مارا رلا رلا کے
غریب کا یہ۔۔۔
چلا تھا جس وقت اس پہ خنجر
تھا گود میں فاطمہ کی یہ سر
کھڑی تھیں ستر قدم پہ زینب
گرا یہ سر جب زمیں پہ کٹ کر
اُٹھایا زلفوں سے شمر نے سر
ٹپک رہا تھا لہو زمیں پر
غریب کا یہ۔۔۔
سوار نوکِ سناں پہ ہوکر
چلا ہے کربوبلا سے یہ سر
نظر ہے اکبر کے سر کی جانب
عجیب غربت کا ہے یہ منظر
کرے یہ اکبر سے جب بھی باتیں
تو خون روتی ہیں اسکی آنکھیں
غریب کا یہ۔۔۔
نظر پڑے جب بہن کے سر پر
پکارے عباس کو تڑپ کر
طمانچے جب بھی سکینہ کھائے
زمیں پہ گر جائے ہائے یہ سر
کوئی جو عابد پہ ظلم ڈھائے
پُکارے نیزے سے ہائے ہائے
غریب کا یہ۔۔۔
گری تھی ناقے سے جب سکینہ
وہیں یہ سر بھی ٹھہر گیا تھا
نظر نہ آئی جب اِسکو بیٹی
تڑپ زینب کی سمت دیکھا
کہا یہ زینب سے جلد جاؤ
میری سکینہ کو ڈھونڈ لاؤ
غریب کا یہ۔۔۔
یہ سر جو خولی کے ہاتھ آیا
عجیب ظالم نے ظلم ڈھایا
گھر اُسکے زہرا تڑپ کے پہنچیں
جب اُس نے تندور میں چھپایا
کئے جو زہرا نے بین روکر
تڑپ رہا تھا حسین کا سر
غریب کا یہ۔۔۔
ستم یہ دربار میں ہوا تھا
غریب سر طشت میں رکھا تھا
یذید دندانِ شاہِ دیں پر
چھڑی کو ہنس ہنس کے مارتا تھا
سکینہ عابد کو دیکھتی تھیں
پدر کی غربت پہ رورہی تھیں
غریب کا یہ۔۔۔
ہے شام کی قید کا یہ منظر
ملا سکینہ کو باپ کا سر
رضا و ذیشان تھی قیامت
کہا سکینہ نے جب لپٹ کر
نصیب کیا ہوگیا ہمارا
ہے میرے سینے پہ سر تمہارا
غریب کا یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.