Ghar lut gaya amma
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hadi Ali Khan Muslim
مقتل کی فضاؤں میں یہ زینب کا تھا نوحہ
گھر لٹ گیا اماں
باقی نہ رہا میرے لئے کوئی سہارا
گھر لٹ گیا اماں
وہ عصر کا ہنگام قیامت کا سماں تھا
دل ڈوب رہا تھا
جب تیغ کے نیچے میرے بھای کا گلا تھا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
سر تن پہ نہیں خون میں تر سارا بدن ہے
یہ شاہ زمن ہے
کیا آپ نے شبیر کو تھا اس لئے پالا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
تھا پہلے ہی بھیا کا بدن زخموں سے چھلنی
آفت یہ نیء تھی
روندھا گیا پھر گھوڑوں کی ٹاپوں سے وہ لاشہ
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
ہے زیر سماں خاک پہ اب آپ کا کنبہ
سر پر نہیں سایہ
عباس کو نیند آی ہے میں دیتی ہوں پہرہ
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
میدان میں پامال ہوا قاسم نوشاہ
دل پھٹ گیا میرا
کیا دیکھتے ہی دیکھتے بیوہ ہوی کبرا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
لیلیٰ نے جو دیکھا ہے جواں بیٹے کا لاشہ
خاموش ہے دکھیا
پھٹ جائے نہ اس غم سے کہیں اس کا کلیجہ
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
پانی کے لئے رن کو علمدار گےء تھے
واپس نہیں آئے
شبیر نے عباس کو مرتے ہوئے دیکھا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
عباس کے لاشے سے حسین آے جو اٹھ کر
تھا درد کا منظر
ہاتھوں سے کمر تھام کے رونے لگے بھیا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
شش ماہ کو میدان سے شبیر جو لاے
تھے سر کو جھکائے
تھا خون میں ڈوبا ہوا معصوم کا لاشہ
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
بچی میری کروٹ بھی تو اب لے نہیں سکتی
سو بھی نہیں سکتی
بہتا ہے لہو کانوں سے ہے زخم بھی تازہ
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
کوفہ جو حرم پہنچے تو دل ہوگےء بے چین
زینب کے یہ تھے بین
یاد آتا ہے بابا کی حکومت کا زمانہ
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
تھا شام کی راہوں میں سفر ایک قیامت
وہ دھوپ کی شدت
وہ شمر کا درہ وہ سکینہ کا تڑپنا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
سجاد کی گردن میں تھا وہ طوق گراں بار
چلنا بھی تھا دشوار
ہر گام پہ بیمار کا وہ گر کے سنبھلنا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
دربار میں ہم لوگ رسن بستہ کھڑے تھے
سب دیکھ رہے تھے
اور سامنے سر طشت میں بھای کا رکھا تھا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
اب کیسے کہوں ہاتھ میں ظالم کے چھڑی تھی
میں دیکھ رہی تھی
اس ظلم پہ زینب کا بدن کانپ رہا تھا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
اس قافلہء حق پہ مصیبت رہی پیہم
ہوتا رہا ماتم
اختر یہی کہتی رہی بس ثانیء زہرا
گھر لٹ گیا اماں
مقتل کی فضاؤں میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.