Ghar hogaya nabi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Irfan Hussain
گھر ہوگیا نبی کا برباد کربلا میں
مردوں میں بس بچے ہیں سجاد کربلا میں
عباس ہیں نہ اکبر زینب کسے پکارے
مقتل میں بجھ گےء ہیں گھر کے چراغ سارے
رنج و الم سے دل ہے آباد کربلا میں
گھر ہوگیا نبی کا۔۔۔
زینب نے کیسے دل میں اس درد کو چھپایا
کس درجہ صابرہ تھی آنسوں نہ اک بہایا
بھائی پہ کر کے صدقے اولاد کربلا میں
گھر ہوگیا نبی کا۔۔۔
زینب کو کربلا میں کتنے غموں نے لوٹا
سیدانیوں کے زیور نہ محرموں نے لوٹا
کیا کیا نہ گزری ہاے بیداد کربلا میں
گھر ہوگیا نبی کا۔۔۔
سب چھینتے تھے ظالم بیووءں کی چادروں کو
حسرت سے دیکھتی تھی احباب کے سروں کو
کوئی نہ تھا جو سنتا فریاد کربلا میں
گھر ہوگیا نبی کا۔۔۔
ماؤں کی گودیاں بھی رن میں اجڑ گئی ہے
صحرا میں وارثوں سے اپنے بچھڑ گیء ہے
بس رہ گیء ہے باقی اک یاد کربلا میں
گھر ہوگیا نبی کا۔۔۔
بعد حسین اختر زینب کا تھا یہ نوحہ
عباس ہے نہ قاسم کس کو بلاؤں بابا
آجاؤ تم ہی بہر امداد کربلا میں
گھر ہوگیا نبی کا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.