Zahra ki betiyon
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
زہرا کی بیٹیوں کی ردائیں اُتر گئیں
سجاد کو ضعیف صدائیں یہ کر گئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
لاشوں کو رسیوں میں جکڑکرلئے پھرو
سیدانیاں تو گھر سے نکلتے ہی مرگئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
جاتیں تھی جو کبھی کبھی زہرا کی قبر پر
جانے خدا ہجوم سے کیسے گزر گئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
ظلم و ستم کی تیز ہوائیں تھیں جب چلیں
سب گلشنِ بتول کی کلیاں بکھر گئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
گودوں سے راہِ شام میں گِرگِر کے مرگئے
بچوں کے لاشے دیکھ کے مائیں بھی مر گئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
رملہ یہ پوچھتی تھی سکینہ سے قید میں
زخمی ہیں کان بالیاں بی بی کدھر گئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
بازار لیکے جاو نہ بے پردہ ظالموں
مر جائیں گی حسین کی بہنیں اگر گئیں
زہرا کی بیٹیوں ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.