Ek sakina aur ek
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ameer Hasan Aamir
اک سکینہ اور ایک اصغر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
دونوں مدینے میں ہی پلے ہیں
لمبے سفر پہ دونوں چلے ہیں
ایک رسن سے ایک ہی خنجر سے
دونوں کے ہی زخمی گلے ہیں
دونوں کا ہے ایک سا منظر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
ظلم کی ضد پر رہتا ہے دونوں
درد کا منظر رہتے ہیں دونوں
سایہ میسر ہوتا نہیں ہے
دھوپ میں دن بھر رہتے ہیں دونوں
ایک برادر ایک ہے خواہر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
دین خدا کی شان بڑھانے
پردہ رخ باطل سے ہٹانے
کربوبلا سے شام کی جانب
اپنے پدر کا ساتھ نبھانے
ساتھ چلے ہیں دونوں مل کر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
ظلم سفر میں جب سہتی ہے
ہاے حسینا ہی کہتی ہے
بالی سکینہ اور اصغر کو
ایک بی بی روتی رہتی ہے
ایک ہے بیٹا ایک ہے دختر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
نیزے پر ہے ایک کی چادر
نیزے پر ہی ایک کا ہے سر
جسم پڑا ہے ایک کا رن میں
ایک کو باندھا ہے ناقے پر
ایک ہے بے سر ایک کھلے سر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
ایک کا رن میں گلا باندھا ہے
ایک کا رن میں گلا چھیدا ہے
جلا ہے کرتہ ایک کا رن میں
ایک کا جھولا راخ ہوا ہے
ایک قیامت ہے دونوں پر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
دونوں کی غربت اک جیسی
دونوں کی ہی عمر ہے چھوٹی
اصغر ہے چھ ماہ کا بچہ
اور سکینہ چار برس کی
دونوں ہیں اک درد کا پیکر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
تیروں پر تھے شاہ مدینہ
زخمی تھا اکبر کا سینہ
عامر اور یعقوب وہاں سے
اصغر اور معصوم سکینہ
دونوں چلے جب ساتھ سفر پر
ایک ناقے پر ایک نیزے پر
اک سکینہ اور ایک۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.