Ek khafela laaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Irfan Haider
سُلا کے قبر میں بے شیر کو حسینِ غریب
ہر اک شہید کے لاشے پہ آئے روتے ہوئے
لبِ حسین سے سُوئے فلک گئی یہ صدا
اک قافلہ لایا تھا میں
اُس قافلے میں تھا علی اکبر سا اک بیٹا جواں
عباس جیسا بھائی تھا معصوم اصغر بے زباں
کچھ بیبیاں تھی ساتھ میں مہظر میں جن کا نام تھا
اک قافلہ لایا۔۔۔
یہ قافلہ کیسے لُٹا یہ سوچ کے میں رو دیا
پالا تھا جن کو ناز سے کر ب و بلا میں کھو دیا
اُن سب کے لاشے سامنے تھے اور ہونٹوں پر بُقا
اک قافلہ لایا۔۔۔
کڑیل جوان کی لاش ہاتھوں پر اُٹھائی ہے ابھی
اک بے زباں کی قبر بھی میں نے بنائی ہے ابھی
سماں میرے قتل کا کرتے ہیں اب یہ اشقیائ
اک قافلہ لایا۔۔۔
پیاسے میرے اطفال ہیں بہتا ہے دریا سامنے
اک بے وطن کودشت میں لُوٹا ہے فوجِ شام نے
روتی ہے میرے چاہنے والوں کے لاشوں پر قضا
اک قافلہ لایا۔۔۔
قسمت میری لے کر مجھے کرب و بلا تک آ گئی
اب بڑھتے بڑھتے بات زینب کی ردا تک آ گئی
ہو جائوں گا میں قتل تو چھِن جائے گی اُس کی ردا
اک قافلہ لایا۔۔۔
کچھ دیر میں خنجر لعین کا حلق پر چل جائے گا
اور بعد میرے خیمئہ سادات بھی جل جائے گا
کیا یوں کوئی پردیس میں آ کر لوٹا اے کربلا
اک قافلہ لایا۔۔۔
جب قتل میں ہو جائوں گا شامِ غریباں آئے گی
سیدانیوں کے قلب پہ تازہ قیامت ڈھائے گی
اُس وقت اُٹھے گی میرے لاشِ بُریدہ سے صدا
اک قافلہ لایا۔۔۔
لاشے سبھی رہ جائیں گے جلتی زمیں پر بے کفن
قیدی بنے گی مصطفیٰ کی آل پابندِ رسن
راہوں میں روتا جائے گا بیمار یہ کر کے بُقا
اک قافلہ لایا۔۔۔
رہ جائے گی بالی سکینہ کی فُغاں زندان میں
قیدی رہیں گی سال بھر سیدانیاں زندان میں
سجاد میرا قید سے جائے گا یہ کہتا ہوا
اک قافلہ لایا۔۔۔
عرفان حیدر ہو گئی اشکوں سے آنکھیں نم میری
ایسے مصائب شاہ کے لکھتا ہے مظہر عابدی
بس ایک مصرے میں سمت کر آ گئی ہے کربلا
اک قافلہ لایا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.