Bibiyon ke qaime
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Raza Abbas Zaidi
عباس علمدار
عباس کے حسار سے کس شان سے آباد تھے
بی بیوں کے خیمے
جب خریدی زمین شہ نے پردیس میں
ظلم کے دیس میں
تھے درندے وہاں چار جانب کھڑے
خیر کے بس میں
جب سے عباس سے علقمہ پر لگے
گلستان بن گےء بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
پہلا خیمہ تو خود چھوٹے حضرت کا تھا
کانپتی تھی فضا
جیسے پہرہ ہو خیموں پہ اک شیر کا
دور تھے اشقیاء
ہاشمی چاند کے نور کی چھاؤں میں
جگمگاتے رہے بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
بی بیوں کے جو خیمے تھے صل علٰی
یوں بنی خیمہ گاہ
اک اک تار تھا ان میں تطہیر کا
آگیء سیدہ
صوت قرآں سے تھی معتر فضا
کتنے پر نور تھے بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
عباس کے حسار سے کس شان سے آباد تھے
بی بیوں کے خیمے
پھر ہوا یوں کہ دریا کی جانب بڑی
فوج کفّار ک
اور ادھر تیغ عباس نے کھینچ لی
جنگ ہونے کو تھی
حکم شہ پہ مگر دور عباس نے
نہر سے کر دیےء بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
ساتویں سے محرم کو روکا گیا
پانی سادات کا
پیاس سے بچے کرتے تھے آہ و بُکا
بوندھ پانی نہ تھا
شدت پیاس تھی العطش کی صدا
سے لرزنے لگے بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
تھی سکینہ کی اصغر کی سوکھی زباں
آ گیء لب پہ جاں
ہو وہ اکبر کہ اصغر کہ قاسم کی ماں
ساری شہزادیاں
کر رہی تھی بکا نام عباس سے
گونجتے ہی رہے بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
بولی زینب یہ بچوں سے شہ کے لئے
جان حاضر رہے
شہ سکینہ کے گوہر کبھی دیکھتے
رخ کبھی چومتے
پہرہ غازی کا تھا شب تھی عاشور کی
خون روتے رہے بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
صبحِ عاشور اکبر نے دی جو اذاں
تھی قیامت بپا
عصر تک خوں دشت میں بچھ گیا
ہاے فرش عزا
بی بیاں رہ گیء بے ردا دشت میں
اور جلاے گےء بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
پہرہ دینے کو ریحان بنت علی
دشت میں رہ گیء
پرسہ دینے رضا آے مولا علی
کانپتی تھی زمیں
جل گےء تھے مگر راہ عباس کی
پھر بھی تکتے رہے بی بیوں کے خیمے
بی بیوں کے خیمے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.