Bemaar ki aankhein
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Hasan Sadiq
بیمار کی آنکھیں ہیں اکبر تیرے راہوں پر
دیواریں بھی روتی ہیں صغرا کی کراہوں پر
صغرا نے کہا مجھکو اک بار جو مل جاے
سر اپنا میں رکھ دوں گی بھیا تیرے پاؤں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
کیوں بھول گےء بھیا صغرا کی خطا کیا ہے
آواز نہیں دیتے کیوں میری صداؤں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
وہ خود ہی سمجھ لے گی ہے مارا گیا بھائی
دیکھے گی نشاں جس دم زینب تیرے باہوں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
دیکھا کہ لہو میں ہے ڈوبا ہوا سب کنبہ
کیا خواب اتر آیا صغرا کی نگاہوں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
پیاسے رہے جب اکبر برسی نہ گھٹا کوئی
افسوس کرے دنیا اب ایسی گھٹاؤں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
ہے دھوپ میں جس دن سے لاشہ علی اکبر کا
ماں اشک گراتی ہے ہر پیڑ کی چھاؤں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
ریحان مجھے کیا ہو اب خوف قیامت کا
جب میرا عقیدہ ہے زہرا کی عطاؤں پر
بیمار کی آنکھیں ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.