Bekasi ka sheh ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
بیکسی کا شہ کی چرچہ رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی چرچہ رہ گیا
سب ہوے سیراب تجھ سے اے فراط
قافلہ یثرب کا پیاسا رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
ظہر تک جب پہنچی خلد میں
صاحبِ لشکر اکیلا رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
اس قدر تھا خشک حضرت کا گلا
خنجر قاتل بھی پیاسا رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
ڈگمگا کر جب گرے گھوڑے سے شاہ
کانپ کر عرش معلیٰ رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
کہتی تھی ماں سوے اصغر قبر میں
ہاے خالی ان کا جھولا رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
زخم کھاتے ہی جو اکبر گر پڑے
چھد کے برچھی میں کلیجہ رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
جب ہوی بے پردہ اولاد رسول
پھر جہاں میں کس کا پردہ رہ گیا
مجرعی مہمان پیاسا رہ گیا
بیکسی کا شہ کی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.