Bas raaj karegi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shahid Baltistani
غیبت کا پردہ اٹھنے دو
جو دیکھ رہے ہیں ہم لوگوں
تم بھی دیکھوگے یاد رکھو
ظلم پھر ظلم ہے خون پھر خون ہے
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جاے گا
خاک صحرا پہ جمیں یا کافے قاتل پہ جمیں
فرق انصاف پہ جمے یا پاے سلاسل پہ جمے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جاے گا
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جاے گا
جو روز اجل طے پایا تھا
ثابت ہوا روز عاشورا
یہ کل بھی ہمارا دعوہ تھا
یہ آج بھی ہے اپنا ہے دعویٰ
ذلت ہے مقدر باطل کا
بس راج کرے گی کربوبلا
دور ہو چاہے کوئی بھی ہے خدا کا فیصلہ
بس راج کرے گی کربوبلا
ذلت ہے مقدر۔۔۔
بس راج کرے گی۔۔۔
کربل کا راج ہی دین خدا کا راج ہے
خنجروں کی موت ہے یہ خون کی معراج ہے
نوکِ نیزہ پر علی کے لال نے ثابت کیا
بس راج کرے گی کربوبلا
ذلت ہے مقدر۔۔۔
بس راج کرے گی۔۔۔
خون بہہ کر بھی امر ہے ظلم کو موت آ گیء
گر گیا دربار باطل کربلا ہے آج بھی
اب بھی یہ لہرا کے کہتا ھے الم عباس کا
بس راج کرے گی کربوبلا
ذلت ہے مقدر۔۔۔
بس راج کرے گی۔۔۔
ظلم کی بات ہی کیا ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم پھر ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
ظلم کی قسمت ناکارہ اور رسوا سے کہو
جبر کی حکمت پکار کی ایماں سے کہو
خون دیوانہ ہے دامن پہ لپک سکتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جاے گا
ظلم کی شہ رگ جو کاٹے خون وہ شمشیر ہے
جبر کو قیدی جو کرلے خون وہ زنجیر ہے
خون کے آنسوں بہا کر دی یہ عابد نے صدا
بس راج کرے گی کربوبلا
ذلت ہے مقدر۔۔۔
بس راج کرے گی۔۔۔
شام کے دربار میں ہے بنت زہرا بے ردا
یہ وہ منزل ہے جہاں پر صبر قد رونے لگا
باپ کے لہجے میں خطبہ دیکے زینب نے کہا
بس راج کرے گی کربوبلا
ذلت ہے مقدر۔۔۔
بس راج کرے گی۔۔۔
ہو کسی قاتل کا خنجر یا ہو دامان زمیں
خون کی سرخی تکلم چھپ نہیں سکتی کہیں
ہر گلی میں ہے یہ نعرہ آج بھی درویش کا
بس راج کرے گی کربوبلا
ذلت ہے مقدر۔۔۔
بس راج کرے گی۔۔۔
تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ کہیں نعرہ کہیں پتھر بن کر
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھاے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دباے نہ دبے
لبیک یا حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.