Ye kaunsi basti hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
شام ہائے شام
ہے سب کی جھولیوں میں پتھر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
ہوتا ہے چراغاں کیوں گھر گھر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہائے شام
پوچھو تو ذرا اماں ان سے
کیوں دیکھنے ہم کو آتے ہیں
ہر سمت خوشی کا عالم ہے
بازار سجائے جاتے ہیں
کیوں عید کے جیسا ہے منظر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہاے شام
---ہے سب کی جھولیوں
سجاد کی آنکھوں سے اب تک
آنسو ہی برستے دیکھے تھے
اب دیکھ رہی ہوں میں اسکی
آنکھوں سے مسلسل خوں بہتا
پوچھو تو کسی سے یہ جا کر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہاے شام
---ہے سب کی جھولیوں
باغی آئے باغی آئے
یہ کیسی منادی ہوتی ہے
لگتا ہے زمانے بعد کوئی
اس شہر میں شادی ہوتی ہے
کچھ ایسے سجے ہیں بام و در
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہاے شام
---ہے سب کی جھولیوں
ہم سب کے سروں سے بہتے ہیں
کس واسطے یہ خوں کے دھارے
کوئی کھولتا پانی پھینکتا ہے
کوئی پھینک رہا ہے انگارے
سب ملکر مارتے ہیں پتھر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہاے شام
---ہے سب کی جھولیوں
وعدہ جو کیا تھا یثرب میں
آتا ہے یاد وہی وعدہ
محسوس مجھے یہ ہوتا ہے
تکتا ہے کوئی میرا رستہ
کیا شیریں کا ہے پاس میں گھر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہاے شام
---ہے سب کی جھولیوں
قرآن سناتے جاتے تھے
شبیر سر نوکِ نیزہ
روتا تھا تکلم ابن علی
جب پوچھتی تھی بنت زہرا
کیوں گرتا ہے عباس کا سر
یہ کونسی بستی ہے فضہ
شام ہاے شام
---ہے سب کی جھولیوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.