Bain karti thi ye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Sachay Bhai
بین کرتی تھی یہ زینب کہ بچاؤ بھای
خیمے جلتے ہیں مدد کے لئے آؤ بھای
بلوہء عام میں بے پردہ کھڑی ہے زینب
بنتِ زہرا کو لعینوں سے بچاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
غش میں ہیں سید سجاد جلے خیموں میں
آکے بیمار کو گودی میں اٹھاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
تم تو پہچان سکو گے نہ ہماری صورت
اپنی صورت ہمیں اک بار دکھاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
اب تو اکبر ہیں نہ قاسم ہے نہ بھای عباس
ہیں رسن بستہ حرم ان کو چھڑاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
ہے گلا خشک سکینہ کا لبوں پر دم ہے
پانی دریا سے اسے لاکے پلاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
ہچکیاں لے کے وہ روتی ہے بلاتی ہے تمہیں
اپنے سینے پہ سکینہ کو سلاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
قید خانے سے یہ زینب کی صدا آتی تھی
اپنے بیٹی کے جنازے کو اٹھاؤ بھای
بین کرتی تھی یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.