Chaon me teghon ki yasrab ka musafir sogaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nisar Party
چھائوں میں تیغوں کی یثرب کا مسافر سوُگیا
دین بچانے کو فقط باقی ہے زینبؑ کی ردِا
کِس کے سینے پر میں سوُئوں مجھ کو نیند آتی نہیں
رکھ کر سر بابا کے لاشے پہ سکینہؑ نے کہا
ہم نہیں آیئں گے اِب اور تم طمانچے کھائوگی
چومُ کر بیٹی کا سر شبیرؑ بیِکس نے کہا
چھوڑ کے روُتی سکینہ ؑ آئے میدان میں حسین ؑ
شاہ کو بچھڑی ہوئی بیٹی کا خط بھی آگیا
بوُلی زینبؑ اِب ہماری چادریں لٹُ جائینگی
خوُن میں ڈوبا ہوُا جب نظر آیا عَلم عباسؑ کا
ہو خُدا حافظ کہ پھر تم سے نہ ملنے پائوں گی
بھائی گردن کے بوُسے لے کر زینبؑ نے کہا
رات کو آئو گے بابا یہ بِتا کے جائیے
روُئی بابا سے لپٹِ کر اور سکینہؑ نے کہا
قتل کردیتے محمدؐ کو مُسلمان بے ِدریغ
راز یہ کرب و بلا میں قتل ِ اکِبر ؑ سے کھلاُ
ڈھونڈنے نکلی ہے لاشوں میں سکینہؑ باپ کو
نیل گو رخسار ہیں کانوں سے خون بہتا ہوا
ہو کا عالم ہے کہ کچھ لاشے پڑے ہیں بے کفن
گونجتی ہے دشت میں اک واہ حسینا ؑ کی صدا
کان دُکھتے ہیں تو اُٹھتی ہے تڑپ کر نیند سے
پوُچھتی ہے ماں تیرے صدقے سکینہ ؑ کیا ہوُا
آگ کیا پھر سے لگی ہے دامنِ قرآن میں
بھر خیامِ مصطفیٰؐ سے ہے دھواں اٹھنے لگا
رہ گیئں تنہا علیؑ کی بیٹیا ں بن َ میں نثارؔ
سامنے لاشے پڑے ہیں وارثوں کے جابجا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.