Ya ali adrikni
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
یا علی ادرکنی
رو کے بازار میں دیتی تھی صدا بنت علی
یا علی ادرکنی یا علی ادرکنی
نوکِ نیزہ سے صدا دیتا ہے ابنِ زہرا
لوگ زینب کی طرف دیکھ رہے ہیں بابا
زیر خنجر نظر آتی ہے تمہاری بیٹی
یا علی ادرکنی۔۔۔
امتحاں غیرتِ سجاد کا کیسا ہوگا
قتل دربار میں سجاد دوبارہ ہوگا
مانگنے آیا ہے بچی کو کنیزی میں شقی
یا علی ادرکنی۔۔۔
کہہ دو ظالم سے مجھے مار لے آ کر درہ
بابا زینب سے یہ منظر نہیں دیکھا جاتا
مارتا ہے وہ میرے بھائی کے ہونٹوں پہ چھڑی
یا علی ادرکنی۔۔۔
سر کھلے شام میں سادات جدھر جاتے ہیں
لوگ پتھر لیئے پہلے ہی نظر آتے ہیں
آج بازار میں مر جاۓ نہ کوئی بی بی
یا علی ادرکنی۔۔۔
آپ کے سامنے جو بات نہیں کرتی تھی
آج بازار میں وہ بیٹی بھی خطبے دیگی
آپ کے لہجے کی اس وقت ضرورت ہے بڑی
یا علی ادرکنی۔۔۔
ابھی دربار سے پہلے ہی گزر جائے گی
سن لیا ثانیء زہرا نے تو مر جاۓ گی
لوگ کہتے ہیں حسین ابنِ علی کو باغی
یا علی ادرکنی۔۔۔
سارے بازار نے ہنس ہنس کے تماشا دیکھا
اور بھی شمر نے اس بات پہ اس کو مارا
جب طمانچوں پہ سکینہ یہ تڑپ کر بولی
یا علی ادرکنی۔۔۔
باب ساعت کا جو بازار سے دیکھا منظر
تھے تکلم وہاں سب لوگ اٹھائے پتھر
ثانیء زہرا یہ کہتی ہوی ناقے سے گری
یا علی ادرکنی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.