Ay mere baba jaan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Ameer Hasan Aamir
مقتل کے سناٹے میں
نوحہ کرتی ہے ناداں
اے میرے بابا جاں
اے میرے بابا جاں
باقی نہیں اب میرے
جینے کا کوی امکاں
اے میرے بابا جاں
اے میرے بابا جاں
جنگل ہے گھر بھی نہیں ہے
کوی یاور بھی نہیں ہے
اب تو اکبر بھی نہیں ہے
سر پر چادر بھی نہیں ہے
یوں ہی اب قیدی ہو کر
جانا ہے مجھکو زنداں
اے میرے بابا جاں۔۔۔
کب سے کھاتی ہوں طمانچے
دونوں عارض ہیں نیلے
پہناے تھے جو بوندیں
وہ بھی اعدا نے چھینے
بیٹی کی حالت دیکھو
زخمی ہے دونوں ہی کان
اے میرے بابا جاں۔۔۔
لوٹا خیمہ بھی گھر بھی
گہوارہ بھی بستر بھی
مقنہ بھی اور چادر بھی
حاصل بھی اور گوہر بھی
اعدا نے آگ لگا کر
لوٹے ہیں گھر کے سامان
اے میرے بابا جاں۔۔۔
یہ اکبر کی میت ہے
وہ اصغر کی تربت ہے
یہ فروہ کی حسرت ہے
وہ زینب کی غیرت ہے
بکھرے پڑے ہیں رن میں
زہرا کے دل کے ارماں
اے میرے بابا جاں۔۔۔
تم تھے احمد کے نواسے
دوری تھی کیا دریا سے
زباں ہوے کیوں پیاسے
بتلاؤں کیا دنیا سے
تم کو کلمہ گویوں نے
مارا بلا کے مہماں
اے میرے بابا جاں۔۔۔
وہ ہے عمو کے بازو
یہ ہے اکبر کے گیسوں
قاسم بکھرے ہیں ہر سو
میں ہوں اور میرے آنسو
کل تک تھی اس مقتل میں
میرے کنبے کی کیا شان
اے میرے بابا جاں۔۔۔
کوفے میں گھبراؤں گی
کیوں کر ہمت لاؤں گی
بلوے میں شرماؤں گی
غیرت سے مر جاؤں گی
رخ پر مٹی ہی مل دو
ہونے نہ پاے پہچان
اے میرے بابا جاں۔۔۔
مجالس میں جب آتے ہیں
اشک غم برساتے ہیں
ماتم میں کھو جاتے ہیں
روتے ہیں رلواتے ہیں
نیر اور عامر کی تم
مشکل کر دینا آسان
اے میرے بابا جاں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.