Ay karbala ay karbala
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Jahan
بعد امام لشکر تشنہ دہاں جو کچھ ہوا
کس سے کہوں کیسے کہوں اے کربلا اے کربلا
کیسے رقم ہو بے کسی بے حرمتی کی داستاں
اک کنبہء عالی میں سب کی در بدر رسوائیاں
اک مشک جس کو کر گیء سیراب تیروں کی زباں
اک سبز پرچم جھک گیا جو خاک و خوں کے درمیاں
اک آہ جو سینے سے نکلی اور فضا میں کھو گیء
اک روشنی جو دن کی ڈھلتی سانسوں میں سو گیء
وہ دودھ ماں نے حیدری کی آل پیغمبر کی لاش
وہ آیتوں کی گود میں سوے ہوے اکبر کی لاش
وہ اک بریدہ بازوؤں والے الم پرور کی لاش
وہ دودھ پیتے لوریاں سنتے علی اصغر کی لاش
معصوم بچے وہشیوں کی جھڑکیاں کھاے ہوے
عون و محمد چھوٹے چھوٹے ہاتھ پھیلائے ہوے
سجاد سے زینب کا یہ کہنا کہ مولا جاگیے
غفلت سے آنکھیں کھولیے لٹا ہے کنبہ جاگیے
اٹھتے ہیں شعلے دیکھیےء جلتا ہے خیمہ جاگیے
اب باقیء زریت یاسین و طاہا جاگیے
سارے محافظ سو رہے ہیں اشقیاں بے زال ہیں
طوق و سلاسل منتظر ہیں بیڑیاں تیار ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.