Waarise tatheer
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Hasan Sadiq
بابا نہ رہا بھائی نہ رہے
بیٹے نہ رہے کچھ بھی نہ رہا
وارثِ تطہیر ہے کرب و بلا میں بے ردا
جس کا کوئی نہ رہا بیمار عابد کے سوا
کربلا میں چار سوُ ہیں بے کفن لاشے پڑے
شام جانے کے لئیے پابند قیدی ہیں کھڑے
سسکیوں کی دب گئی شورِ سلاسل میں صدا
وارثِ تطہیر ہے۔۔۔
سر برہنہ ہیں کھڑی قرآں کی جو تفسیر ہے
ہیں بندھے بارہ گلے اور ایک ہی زنجیر ہے
اس لئیے رُک رُک کہ چلتا جا رہا ہے قافلہ
وارثِ تطہیر ہے۔۔۔
دخترِ حیدر تیرے خُطبوں کی یہ تاثیر ہے
شام میں توُ نے بدل دی دین کی تقدیر ہے
زندہ و پائندہ تونے کر دیا ہے لاالہ
وارثِ تطہیر ہے۔۔۔
کوئی عابد کو سنبھالے آگیا جو شام ہے
بھیڑ ہے بازاریوں کی اور بلوا عام ہے
کلمہ گو دیتے نہیں چلنے کا اُن کو راستہ
وارثِ تطہیر ہے۔۔۔
ہے مُقدر کا سکندر توُ اے خورشیدِ حزیں
ہر کسی کو دہر میں تقدیر یہ ملتی نہیں
یہ قلم ہے مادرِ شبیر کی تجھ کو عطاء
وارثِ تطہیر ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.