Allah allah min
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nadeem Sarwar
سلام بر محرم
سلام بر کربلا
سلام بر عاشورہ
سلام بر حسین
السلام علی الحسین
وا علی ابنِ الحسین
وا علی اولاد الحسین
وا اصحابِ الحسین
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
اے نیزہ سواروں کی قیادت کے شہنشاہ
ذوالفیں تیری والیل ہے والشمس ہے چہرہ
آنکھوں سا عیاں نور محمد کا اجالا
لب تیرے ہیں مصروف تلاوت بن زہرا
سجدے میں جھکا سر تو عبادت کا شرف تھا
نیزے پہ اٹھا سر تو یہ سر در نجف تھا
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
تھی پشت محمد تو اسی سر کا مصلی
اور چادر تطہیر ہے اس سر کا عمامہ
من کنت کا خطبہ ہاں اسی سر کا خلاصہ
اس سر کے سبب کربوبلا اب ہے معلیٰ
یہ سر نہ جھکا خنجر و تلوار کے آ گے
سر ظلم کا خم ہے تیرے انکار کے آگے
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
روح حسین
جبینِ حسین
ابروح حسین
چشمِ حسین
رخسارِ حسین
دہن حسین
لبِ حسین
دندان حسین
رخسارِ حسین
ریش حسین
گلوے حسین
ذلف حسین
خوشبوئے حسین
ذہن حسین
فکر حسین
گفتار حسین
ان آنکھوں کو ہے احمد مختار نے چوما
زہرا و علی نے لب و رخسار کو چوما
ذلفوں کو حسن نے ہے بڑے پیار سے چوما
بہنوں نے گلا اس کا کیء بار ہے چوما
سرداریء عباس اسی سر سے جڑی ہے
اور زینب و کلثوم کو یہ مثل علی ہے
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
موجود تھا اس سر میں محمد کا خزانہ
مقصد تھا اسی سر کا تو اسلام بچانا
ظالم نے بہت چاہا تھا اس سر کو جھکانا
یہ سر نہ جھکا کٹ گیا زہرا کا گھرانہ
اس سر کا سفر سن کے جہاں روتا ہے اب تک
غیبت میں جو ہے مرثیہ خواں روتا ہے اب تک
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
عاشور کو یہ سر پس گردن سے کٹا تھا
ضربیں تھی لگی تیرہ بہت خشک گلا تھا
زینب کے لیےء وقت قیامت سے کڑا تھا
ذلفوں کو پکڑ کر جو یہ سر شمر چلا تھا
افسوس سر نوکِ سِناں جب یہ سر آیا
جلتا ہوا گھر شام غریباں کا تھا سایہ
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
اس سر کے مصایب کا یہ پر درد ہے قصہ
خونی نے اسے گھر میں جو تندور میں رکھا
رات آی تو پھر زوجہء خونی نے یہ دیکھا
تندور سے ایک نور کا دریا ہے ابلتا
اک بی بی سیاہ پوش نے اس سر کو اٹھایا
رو رو کے کہا ہاے غریب دل زہرا
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
راحب نے یہ سر دیکھا تھا جب نوکِ سِناں پر
خولی سا کہا کون ہے یہ کس کا ہے یہ سر
بولا وہ بد اطوار کے یہ ہے بن حیدر
راحب نے وہ سر لے لیا خولی کو دیا زر
سر گود میں رکھے ہوے روتا رہا راحب
آوازِ فغاں زہرا کی سنتا رہا راحب
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
یہ سر کبھی صندوق میں تندور میں رکھا
اس سر کو درختوں پہ لعینوں نے سجایا
نیزے پہ اسے شہر کی گلیوں میں پھرایا
ہمراہ اسیروں کے یہ سر شام جب آیا
سجاد کو زینب کو رلاتے تھے ستمگر
سر بالی سکینہ کو دکھاتے تھے ستمگر
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
دربار یزیدی میں بپا جشن ترب تھا
تھے ایک طرف اہلِ حرم مضطر و گریہ
اور سامنے تھا تخت پہ مرجانا کا بیٹا
اس تخت تلے سر تھا حسین بے خطا کا
بد بخت لعیں نشے میں للکار رہا تھا
دندان شہ دیں پہ چھڑی مار رہا تھا
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
جس وقت یہ سر شام کے زندان میں آیا
سر بھای کا زینب نے کلیجے سے لگایا
سجاد نے بیہوش سکینہ کو جگایا
سر بابا کے پہلو میں سکینہ نے جو پایا
اے سرور و ریحان قیامت کا سماں تھا
شبیر کا سر روتا تھا اور شور فغاں تھا
اللّٰہ اللّٰہ من راسل حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.