Alam aagaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Zaidi
شبیر کی آنکھوں میں پیاسوں کی یہ گونجی صدا
الم آگیا الم آگیا
معصوم سکینہ نے بچوں کو بلا کر کہا
الم آگیا الم آگیا
تم نے بھی ہمیں چھوڑا کس وقت مصیبت میں
اب کون سہارا ہے اس عالم غربت میں
عباس کے پرچم سے زینب نے لپٹ کر کہا
الم آگیا الم آگیا
شبیر کی آنکھوں میں۔۔۔
اب کون بچاے گا اے بھای رداؤں کو
سنتے نہیں کیا بھای بیکس کی صداؤں کو
زینب نے کہا رو کر چھن جاے گی سر سے ردا
الم آگیا الم آگیا
شبیر کی آنکھوں میں۔۔۔
کہنا تھا یہی رن میں سب ظلم کے ماروں کا
زینب نے کیا ماتم یہ کہکے دلاروں کا
اب ہم پہ لعیں رن میں ڈھایینگے جفا پر جفا
الم آگیا الم آگیا
شبیر کی آنکھوں میں۔۔۔
پردیس میں آے تھے ہم جس کے سہارے پر
وہ شیر تو سوتا ہے اب دریا کنارے پر
اب تو ہی محافظ ہے ہم اہلِ حرم کا خدا
الم آگیا الم آگیا
شبیر کی آنکھوں میں۔۔۔
زنداں میں سکینہ کا جب آخری وقت آیا
ایسے میں ظفر اس نے سجاد کو رلوایا
دروازہء زنداں پر معصوم نے رو کر کہا
الم آگیا الم آگیا
شبیر کی آنکھوں میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.