Al madad ya zahra
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Shahid Baltistani
فاطمہ زہرا
ہاے ہاے زینب ہاے ہاے شام
شام کو جاتے ہوے
کہتی تھی ثانیء زہرا
المدد یا زہرا
شام آتی تھی مجھے میں باپ سے نہ کہہ سکی
آپ ماں ہے جانتی ہے کیفیت دل کی میری
ہو گیء بنت علی نا محرموں میں بے پردہ
المدد یا زہرا۔۔۔
بیکسی دکھلا رہی ہے کیا قیامت کا سماں
مر نہ جاے غم سے مقتل میں کہیں اصغر کی ماں
کیسے دیکھے گی بھلا نیزے پہ جسم اصغر کا
المدد یا زہرا۔۔۔
دور نہ ہونے دیا تھا اپنی نظروں سے جسے
اس جواں بیٹے کو لیلیٰ الوداع کیسے کہے
لاش اکبر سامنے رونے پہ ہے لگا پہرہ
المدد یا زہرا۔۔۔
ہتھکڑی ہاتھوں میں ہے اور بیڑیاں ہے پاؤں میں
اب کہاں مہلت ملے گی بیٹھنے کی چاہوں میں
شام تک سجاد کا کانٹوں سے ہے بھرا رستہ
المدد یا زہرا۔۔۔
لڑکھڑاتے ہیں قدم اور آنکھ میں آنسوں بھرے
مرحلہ دشوار ہو گا یہ رقیہ کے لئے
لاشہء عباس سے گزرے گی کیسے بے پردہ
المدد یا زہرا۔۔۔
دشت میں تقسیم کیسے ہو گیا وہ مہ جبین
سر کہیں ٹکڑے کہیں ہے اور سہرا کہیں
اپنے قاسم کو بھلا پہچان کس طرح فروہ
المدد یا زہرا۔۔۔
بے ردا بنت علی ہے بیکفن ابنِ علی
شام جاے اے سنبھالے لاش کو شبیر کی
کانپتے ہونٹوں پہ یہ فضہ کے استغاثہ تھا
المدد یا زہرا۔۔۔
دشت میں عون و محمد کی تکلم تھی صدا
بھر نہ آے ماں کا دل لاشے چھپا دے اے ہوا
رک نہ جاے یہ قدم ہے سخت امتحان ماں کا
المدد یا زہرا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.