Abbas sa bhai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Raza Abbas Zaidi
محسوس کرے کوئی تو دل کانپ اٹھے گا
سیلاب غم و درد ہے روکے نہ رکے گا
خود کاتب تقدیر بصد درد لکھے گا
مقتل کی زمیں روئے گی زندان کہے گا
پردیس ہے غربت ہے دربار کی تھکن ہے
عباس سا بھائی ہے تو زینب سی بہن ہے
ایک ثانیء زہرا ہے تو اک ثانیء حیدر
شبیر کا اک بھائی ہے اور ایک ہے خواہر
ہے بوڑھے علی بھائی بہن رشک چمن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
اک ضامن چادر ہے سبھی اہلِ حرم کا
اور ایک کی ردا دھوپ میں سایہ ہے علم کا
ایک ڈھارس شبیر ہے ایک قلب حسن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
دونوں نے وفاؤں کا بھرم ایسا رکھا ہے
یہ حکم کا پابند وہ پابند حیا ہے
اک تشنہء پیکار ہے اک تشنہ دہاں ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
دونوں ہی علمدار وفا ہیں سر میداں
یہ عصر سے پہلے وہ پس شام غریباں
کانپا ہوا سہما ہوا دونوں ہی سے رن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
اک مجلس و ماتم کی بنا ڈالنے والی
اک بعد شہادت بھی ہے میدان کا غازی
اک ہے بنی ہاشم کا قمر ایک کرن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
بازو تھے بندھے سر تھا کھلا جب کہ بہن کا
بے بازو علمدار تھا محتاج کفن کا
دونوں کے کلیجوں میں مسلسل یہ چھبھن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
وہ بر سرِ نیزہ تھا یہ کانٹوں پہ رواں تھی
سر اسکا گرا نیزے سے یہ محوِ فغاں تھی
یہ خون کی تصویر ہے رشتوں کی لگن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
عباس کی اک آنکھ میں جب تیر چبھا تھا
دل تھام کے زینب نے بصد درد کہا تھا
مجبور ہوں بھیا میرے ہاتھوں میں رسن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
ریحان و رضا زینب و غازی کی دعا ہے
واللہ یہ شہزادی سکینہ کی عطا ہے
اس نوحے میں تائید شہنشاہِ زمن ہے
پردیس ہے غربت ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.