Aayi hatif ki awaaz
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Alamdar Razvi
آی ہاتف کی آواز شہ کو
اترو شبیر یہ کربلا ہے
بس قدم اب نہ آگے بڑھاؤ
اترو شبیر یہ کربلا ہے
اب سفر ختم ہے ابنِ زہرا
لب دریا کرو خیمہ برپا
حشر تک ہے یہاں تم کو رہنا
اترو شبیر یہ۔۔۔
مرتے دم بھی نہ پانی ملے گا
پیاسی گردن پہ خنجر چلے گا
سر تمہارا سناں پر چڑھے گا
اترو شبیر یہ۔۔۔
لاش چالیس دن تک تمہاری
اسی جنگل میں عریاں رہے گی
رونے والا بھی کوئی نہ ہو گا
اترو شبیر یہ۔۔۔
کھاے گی جب سکینہ طمانچے
یہی تڑپے گا لاشہ تمہارا
شمر دے گا یہی اسکو ایذاء
اترو شبیر یہ۔۔۔
تھوڑے دن ہے جو مہماں رہو گے
کھانے پانی کی ایذاء سہو گے
بھوکے پیاسے یہی قتل ہونگے
اترو شبیر یہ۔۔۔
راہوار اپنا سرور نے روکا
اترے باقر وہی شاہ والا
ہاتف غیب جس دم پکارا
اترو شبیر یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.