Aale ahmed ki khooni
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Nasir Jahan
آل احمد کی خونی کہانی
لو سنو کربلا کی زبانی
کیسی افسردای چاندنی ہے
چھای محرم پر مرزمی ہے
اک بی بی ہے مقتل میں پھرتی
اور ایک ایک لاشے پہ گرتی
اس طرح دل کسی کا نہ ٹوٹے
اپنے پیاروں سے کوئی نہ چھوٹے
ریت پر اتنے لاشے پڑے ہیں
کیسے موتی کہاں پر پڑے ہیں
جلتے خیموں میں بچے گھرے ہیں
کیسے ان کے مقدر پھرے ہیں
کاف لے کر کوئی یوں کھڑا ہے
ایک بیمار تنہا پڑا ہے
یوں سکینہ کے گوہر لٹے ہیں
دور دریا پہ شانے کٹے ہیں
سلسلہ امتحاں کا ہے جاری
بی بی زینب تمہاری ہے باری
ننھے بچوں کو لوری سناؤ
خالی جھولے کی ڈوری ہلاؤ
دیکھو اکبر پہ گریہ نہ ہونا
مثل مادر پریشاں نہ ہونا
بھای بھای نہ یوں تم پکارو
شام کے سمت اب تم سدھارو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.