Tere mehman aaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Ameer Hasan Aamir
ہاے افسوس تونہ پہچانی
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے
تیرے مہمان آے ہیں شیریں
اپنا وعدہ نبھانے نیزوں پر
کچھ مسلمان آے ہیں شیریں
گھر سجا اپنا بے گھروں کے لئے
چادریں لا کے دے سروں کے لئے
سر پہ غربت کی دھوپ اوڑھے ہوے
سب پریشان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
اک کٹے سر سے آ رہی تھی صدا
تیرے آقا کے پاس کچھ نہ بچا
کوئی تحفہ نہ لاے تیرے لئے
ہم پشیمان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
تیرا گھر اور کہاں رسول کی آل
کر نبی زادیوں کا استقبال
آج تیرے غریب خانے پر
دیں کے سلطان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
وہ جو اٹھارہ سال کا سر ہے
ام لیلیٰ کے لال کا سر ہے
ماں کے ہمراہ خوں میں غلطاں ہے
ماں کے ارمان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
شہ کا غنچہ دہن بھی آیا ہے
قاسم گل بدن بھی آیا ہے
دیکھ اپنے لہو میں ڈوبے ہوے
کتنے قرآن آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
ساتھ عباس نامدار بھی ہے
تیرے آقا کے جانثار بھی ہے
راہ تکتی تھی جن کی خوابوں میں
لے وہ انسان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
کیا کہے داستان بربادی
روکے کہتی تھی ہر نبی زادی
کھو کے اپنا مسافرت میں سبھی
ساز و سامان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
ہے کہاں اب دل بتول کو چین
لٹ گیء رن میں کاینات حسین
بن کے سجاد اپنے بابا کے
مرثیہ خوان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
دل لرزتا تھا عامر و اختر
جب یہ کہتی تھی زینبِ مضطر
بے ردائی میں شہر کوفہ کے
راستے چھان آے ہیں شیریں
کربلا سے لٹے لٹاے ہوے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.