Ya ahmade mukhtar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Moharram recited by Safdar Abbas
ہاے لٹ گیا زہرا کا پریوار
یا احمد مختار
کہتی تھی یہی زینب غمخوار
یا احمد مختار
بھای سے ہوی دسویں محرم کو جدای
مقتل میں سحر گیارہ محرم کی جب آی
نیزے پہ ہوا بھای کا دیدار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
کرتے ہیں بڑے ظلم سکین اپے ستمگار
تھے بوسہ گاہ حضرتِ شبیر جو رخسار
ہے سرخ طمانچوں سے وہ رخسار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
ناموس کبھی آپ کی نکلی نہیں گھر سے
بے چادری در پیش ہے اور شام کے رستے
ہر گام ہے پر خار اور شرر بار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
یہ ثانیء زہرا پہ مصیبت کی گھڑی ہے
وہ مجمعہء اغیار میں بے پردہ کھڑی ہے
اور نیزے پہ ہے فرق علمدار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
جب شمر لگاتا ہے سکینہ کو طمانچے
ناچار یہ سجاد سے ہو جاتا ہے خدشہ
بیمار نہ جی پاے گا زنہار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
جس در پہ دیا کرتے تھے جبرییل سلامی
اس در کے مکینوں کے تماشای ہے شامی
اس دن کا تصور بھی تھا دشوار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
اٹھارہ برادر ہے میرے نوکِ سناں پر
جب ان پہ تماشائی یہ برستے ہیں پتھر
دل پہ میرے چل جاتی ہے تلوار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
مر جاتا ہے اطفال حرم تشنہ لبی سے
کیا کیا نہ ملے زخم ہمیں فوج شقی سے
پانی بھی نہیں دیتے نہیں جفا کار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
نوحہ جو حمید عابدی زینب نے سنایا
یہ نالہ و شیون لب کلثوم پہ آیا
ہے وقتِ محمد حیدر کرار
یا احمد مختار
ہاے لٹ گیا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.