Shore matam hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Moharram recited by Farhath Hussain
شور ماتم ہے شہیدوں کے عزاداروں میں
شاہ مظلوم نے سجدے کیےء تلواروں میں
جن کے گھر سے ہوا اسلام میں پردہ قائم
انکو سر ننگے پھرایا گیا بازاروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
دیکھ لو دیکھ لو اصغر کو زمانے والوں
پھر ہنسے گا نہ کوئی تیروں کی بوچھاروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
قید خانے اسے سینے سے لگاے رکھنا
مر گیء ہاے سکینہ تیرے دیواروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
کون آیا ہے یہ ماں بہنوں کو لیکر قیدی
ایک فریاد ہے زنجیروں کی جھنکاروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
دل کی تطہیر سے شاید ہے زبان عریاں
ہاے وہ پردہ نشیں شام کے بازاروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
حق و باطل کا ابھی فیصلہ ہوجائے گا
آکے ماتم کرو زنجیروں کا انگاروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
نظر آتش ہوے سجاد کے خیمے شمسی
گھر محمد کا غضب آگ کے انگاروں میں
شور ماتم ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.