Tera mehman hoo
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mesum Abbas
تیرا مہمان ہوں شیریں تیرا مہمان ہوں
تو مجھے جان نہ پائی یہ میں جانتا ہوں
تو نہ پہچانے مگر میں تجھے پہچانتا ہوں
تو خطاوار نہیں شیریں یہ میں جانتا ہوں
تو نے اس حال میں کب پہلے مجھے دیکھا ہے
با خدا جان لے مجھکو پہچان لے
تیرا مہمان ہوں شیریں تیرا مہمان ہوں
میں سلامت رہوں مانی تھی یہ تو نے منت
ہو گیء ختم زمانے سے یہ تیری زحمت
گھر تیرے آج میں مہمان ہوا اس صورت
سر میرا نوکِ سِناں جسم کربوبلا
با خدا جان لے۔۔۔
تیرا مہمان ہوں۔۔۔
یاد شیریں تجھے وہ ہوگا زمانہ میرا
ساتھ ساے کی طرح رہتا تھا نانا میرا
کام جبریل کا تھا ناز اٹھانا میرا
آج بے گور و کفن جسم ہے مقتل میں پڑا
با خدا جان لے۔۔۔
تیرا مہمان ہوں۔۔۔
ٹکڑے ٹکڑے تھے پڑے رن میں جگر کے پارے
لاش اکبر کی اٹھا لاے نہ ہمت ہارے
حوصلہ دیکھ کے حیراں تھے فرشتے سارے
ایک مہمان پہ کیا کیا نہ ہوے ظلم و جفا
با خدا جان لے۔۔۔
تیرا مہمان ہوں۔۔۔
یا علی کہکے دی مقتل میں دہائی میں نے
آستیں کہنیوں تک اپنی چڑھائی میں نے
یوں سناں سینۂ اکبر سے نکالی میں نے
سامنے نظروں کے فرزند نے دم توڑ دیا
با خدا جان لے۔۔۔
تیرا مہمان ہوں۔۔۔
گھر تیرے آیا ہوں اس حال میں حیران نہ ہو
میری مہمان نوازی میں پریشان نہ ہو
بس دعا کر میرے جیسا کوئی مہمان نہ ہو
ایسے عالم میں آے نہ کسی کو بھی قضا
با خدا جان لے۔۔۔
تیرا مہمان ہوں۔۔۔
اشک خوں آج بھی آنکھوں سے رواں ہے میثم
کیوں نہ ہو کرتی ہے خود فاطمہ زہرا ماتم
خاک اڑاتے ہیں سر خلد رسول اکرم
کیسا پر درد ہے خرشید یہ لکھا نوحہ
با خدا جان لے۔۔۔
تیرا مہمان ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.