Pardes mein ghar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Moharram recited by Ali Zia Rizvi
پردیس میں گھر لٹ گیا بانو کی تھی فریاد
اے سید سجاد
پردیس میں گھر
اصغر کے بنا ہو گئی دنیا میری برباد
اے سید سجاد
پردیس میں گھر
بچوں کی جدائی میں ہے زینب کا برا حال
کبرا ہی ہے بے حال
لیلی کا جگر چھلنی ہے فروہ بھی ہے ناشاد
اے سید سجاد
پردیس میں گھر
اکبر ہیں نہ اصغر ہیں نہ اب شاہ مبیں ہیں
ہر سمت لعین ہیں
تم ہی میرے وارث بھی ہو تم ہی میری اولاد
اے سید سجاد
پردیس میں گھر
راتوں کو بھی اکثر جو سکینہ نہیں سوتی
اٹھ اٹھ کے ہے روتی
آنکھوں میں پھرا کرتے ہیں شاید ستم ایجاد
پردیس میں گھر
پردیس میں
پردہ ہیں عماری ہے نہ چادر نہ سرور پر
خشکی ہے لبوں پر
رسی کی گرفت سے کوئی بازو نہیں آزاد
پردیس میں گھر
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.