Milti hi nahi koi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Moharram recited by Hasan Sadiq
ملتی ہی نہیں کوئی مثال ایسی دہر میں
بے گوروکفن بھائی ہمشیر سفر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
حق فاطمہ زہرا کا غصب جس نے کیا ہے
وہ دوست بھلا کیا ہے پیمبر کی نظر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
چھ ماہ کے بچے کو بھی نیزے پہ چڑھایا
کیا چھوڑا ہے امت نے میرے بھائی کے گھر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
خاموش چلی جائوںبھلا شام میں کیسے
شبیر کا لاشہ ہے میری راہ گزر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
عابد نے کہا خون یونہی روتا رہوںگا
پھپھی کی اسیری نے کیے زخم جگر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
ترسی تھی خواتین ملاقات کوجس میں
زینب سرِعریاں ہیں اُسی کوفہ شہر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
بہتے ہیںغمِ شاہ میں جو آنسو وہ کہاں ہیں
محشر میں ملیں گے وہ تمہیںلال وگوہر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
کیوں کر نہ امیر آج کہے غم کا یہ نوحہ
ہر ظلم کا منظر ہے میری دیدئہ و تر میں
ملتی ہی نہیں کوئی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.