Tadap ke kehte hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shadman Raza
عرصۂ ہستی میں جس وقت کے آینگی بتول
کہکے فرزندوں کا غم سب کو رلاینگی بتول
لب پہ مذکور شہادت کا ہلاینگی بتول
عرش کے پاے کو رو رو کے ہلایینگی بتول
اس گھڑی شرم سے منہ پھیر نہ لینا فاطمہ
خون بہا فاطمہ زہرا کو تو دینا ظالم
تڑپ کے کہتے ہیں سجاد اے پھپھی اماں
یزید کہتا ہے بابا کا خون بہا لے لو
وہ میرا بابا جسے فاطمہ نے پالا تھا
نبی کا نورِ نظر دین کا اجالا تھا
نہ اسکی لاش کو کوئی اٹھانے والا تھا
میں اٹھ نہ سکتا تھا اور سامنے پڑی تھی لاش
سناں کی نوک پہ سر تھا تڑپ رہی تھی لاش
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
چچا کے صدمے نے بابا کی توڑتی تھی کمر
جواں کی لاش پر پہنچے تھے گھٹنیوں چل کر
اٹھا کے لاے تھے کاندھے پہ لاشہء اکبر
کہا یہ بانو سے جاں سےگزر گےء اکبر
نکالی ہم نے جو برچھی تو مر گےء اکبر
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
ہر ایک آنکھ لہو سے بھگو گےء قاسم
چلے جو گھوڑے تو ٹاپو میں کھو گےء قاسم
کہ زندگی میں ہی پامال ہو گےء قاسم
رگڑتے ایڑیاں قاسم کا کیا صلہ دیگا
ہر ایک لاش کے ٹکڑے کے بدلے کیا دیگا
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
کہا جلال میں زینب نے اسکی یہ جرأت
کہو یہ اس سے کہ کیا دیگا وہ ہمیں دولت
تم اس سے پوچھو کہ عباس کی ہے کیا قیمت
یہ جو لہو بھرے گیسو ہے انکا کیا دے گا
یہ جو کٹے ہوے بازو ہے ان کا کیا دے گا
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
کوئی بتائے اسے کیا ہے انبیاء کا حسین
پسر رسول کا اور کیا ہے مرتظی کا حسین
وہ تین روز کا پیاسا وہ فاطمہ کا حسین
نہیں پتہ دل زہرا کے چین کی قیمت
خدا سے پوچھ لے کیا ہے حسین کی قیمت
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
جدا بدن سے تھا سر اور تھا کلیجہ پاش
پڑی تھی گھوڑوں سے پامال تیز دھوپ میں لاش
یہاں تلاش ردا کی وہاں کفن کی تلاش
چھپا لوں بدلے کے ارمان کو میں پھپھی اماں
بھلا دو شام غریباں کو میں پھپھی اماں
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
عجب ہے حال سکینہ کا ماں کو سکتا ہے
رسن گلے میں ہے سینے میں دم اٹکتا ہے
لرزتے اشک ہے کانوں سے خوں ٹپکتا ہے
گوہر جو کانوں سے چھینے تھے ان کا کیا دے گا
طمانچے اس نے جو کھاے ہے ان کا کیا دے گا
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
پھرای جاتی تھی گلیوں میں عطرت اطہار
ردا سروں پہ نہ تھی اور مجمعہء اغیار
بھلا دوں کیسے میں بیٹا وہ شام کا بازار
بتاے کرب یتیمہ کی کیا جزا دے گا
سناں کی نوک سے کھینچی ردا کا کیا دے گا
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
قمر رباب کو معلوم ہے صغیر کی پیاس
ہے چھ مہینے کے بچے کے زخم کا احساس
چھپاے رکھتی ہے جھولے کی لڑکیاں یہ پاس
کہو یزید سے بے شیر کی خطا کیا ہے
کہ چھ مہینے کے بچے کا خوں بہا کیا ہے
تڑپ کے کہتے ہیں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.