Shireen mai aagaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
لٹ کے جب قافلہ شیریں کے مکاں تک پہنچا
نوکِ نیزہ سے یہ آنے لگی مولا کے صدا
وعدہ ہوا وفا ایک سر نے دی صدا
شیریں میں آ گیا
گھر میرا لٹ گیا زینب ہے بے ردا
شیریں میں آ گیا
کچھ دیر کے لئے ہے تیرے گھر میں بس قیام
جلدی سے کر غریب کی مجلس کا اہتمام
آئی ہے فاطمہ فرش عزا بچھا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
مارے ہیں سنگ شہر کے لوگوں نے اس قدر
بہنوں کے ساتھ ساتھ ہے زخمی میرا بھی سر
پہچان اب ذرا چہرہ لہو بھرا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
وہ کہہ رہی تھی بھائی مجھے شرم آئے گی
شیریں کو بنت فاطمہ کیا منہ دکھائے گی
زینب ہے بے ردا گھر کے دیئے بجھا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
پیروں سے میری بہنوں کے کانٹے نکال لے
وہ دیکھ گر رہی ہے سکینہ سنبھال لے
لے کر تمہارے گھر پیاسوں کا قافلہ
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
رخصت کے دن ردائیں تجھے دی تھی کس لئے
سر ننگے میرے کنبے کی حالت سے جان لے
اب وقت آ گیا لا چادریں وہ لا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
زخموں سے چور چہرے کو پہچانتی تو ہو
مہمان تم حسین کو اب مانتی تو ہو
بڑھ کر اتارو پھر نیزے سے سر میرا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
بارات لے کے آیا ہوں کڑیل جوان کی
حالت مگر عجیب ہے اس خاندان کی
دولہا کے ساتھ ہے نیزے پہ سر میرا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
طعنے تو روز سنتی تھی وہ بھول جائیں گے
اتنے امیر لوگ تیرے گھر کیوں آئینگے
جا ان سے کہہ دے جا نیزے پہ ہوں تو کیا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
شیریں ردا سنبھال کے در کی طرف بڑھی
ہائے حسین کہہ کے تکلم وہ رو پڑی
زخمی لبوں سے جب آنے لگی صدا
شیریں میں آ گیا
وعدہ ہوا وفا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.