Pyaso se zyada
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Mirza Sikander Ali
پیاسوں سے زیادہ دور نہ تھا
بہتے ہوئے دریا کا پانی
نا کامیء قسمت کیا کہیے
پایا نہ مگر قطرہ پانی
پیاسے جو رہے چوبیس پہر
لو دھوپ میں یوں سوکھا پانی
روے تو لہو آیا بہہ کر
آنکھوں میں نہ تھا قطرہ پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
اصغر نے بڑی امیدوں سے
منہ کھولا مگر لب پر نہ ہوے
بچے کے لئے اللہ اللہ
تھا جان سے بھی مہنگا پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
وعدہ جو کیا تھا مادر سے
وہ عون و محمد کرکے رہے
بہتا تھا برابر میں دریا
مڑ کر نہ مگر دیکھا پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
پیاسوں کے مقدر میں ہی نہ تھا
پانی کا کوئی قطرہ شاید
عباس نے دیدی جان مگر
خیمے میں نہیں پہنچا پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
عاشور کو جلتی ریتی پر
پیاسا تھا محمد کا دلبر
ہر روز قیامت تک بھی اگر
کیا فائدہ اب برسا پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
عباس کے ہونٹوں کے چھالے
کہتے ہیں امام بیکس سے
قبضے میں تھا غازی کے دریا
لیکن نہ پیا قطرہ پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
کچھ اس سے زیادہ ہو نہ سکا
مجبور تھا دریا کیا کرتا
پانی کے لئے تڑپے اصغر
اصغر کے لئے تڑپا پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
پتھر کے جگر بھی آب ہوے
مقتل میں نثار اعدا روے
ہونٹوں پہ پھرا کر اپنی زباں
بے شیر نے جب مانگا پانی
پیاسوں سے زیادہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.