Shaam walon se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Shadman Raza
شام والوں سے یہ زینب نے کہا رو رو کر
میں محمد کی نواسی ہوں نہ چھینو چادر
ابھی کچھ دیر میں آیینگے نجف سے بابا
سر کھلے جاؤں گی کس طرح میں پیش حیدر
شام والوں سے یہ۔۔۔
تبزیانوں کی سزا مجھ پہ بڑھا دو لیکن
میرے بالوں کے کٹے سر کو نہ مارو پتھر
شام والوں سے یہ۔۔۔
ایک بیمار کو کب خاک پہ نیند آتی ہے
ظالموں میرے بھتیجے کا نہ چھینو بستر
شام والوں سے یہ۔۔۔
کون اب مجھ سے دلاے گا تمہیں یہ بوندیں
شمر کہتا تھا سکینہ کو دکھا کر گوہر
شام والوں سے یہ۔۔۔
کل تو سورج نہ میرے پاس ادب میں نکلا
آج ہر سو تماشائی میں ہوں بے چادر
شام والوں سے یہ۔۔۔
یہ ہے ممتا کی نشانی نہ جلاؤ اس کو
کھیلتا تھا اسی گہوارے میں میرا اصغر
شام والوں سے یہ۔۔۔
یہ تو اللّٰہ سے وعدہ ہے جو خاموش ہوں میں
ورنہ اے ظالموں میں بھی ہوں علی کی دختر
شام والوں سے یہ۔۔۔
بیٹھ کر پڑھتی ہے زنداں میں نمازیں وہ بلال
توڑ دی یوں غمِ عباس نے زینب کی کمر
شام والوں سے یہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.