Paani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Ali Mohd. Sultanpuri
ہاے سکینہ ہاے سکینہ
ہاے یتیمہ ہاے یتیمہ
شمر نے خاک پہ دکھلا کے جو پھینکا پانی
دیکھتی رہ گئی معصوم سکینہ پانی
خون آنکھوں میں اتر آیا یتیمہ روی
اپنی غربت پہ تڑپ کر کے وہ دکھیا روی
کر کے رخ دیر تلک جانب دیر روی
یاد سقہ کی بہت آی سکینہ روی
روکے دیتی تھی صدا دیکھ لو آ کر عمو
ایک خطرہ کے لئے کھاتی ہوں ٹھوکر عمو
شمر نے خاک پہ۔۔۔
کیفیت پیاس کی کیسی تھی کوئی کیا جانے
کتنی شدت سے وہ پیاسی تھی یہ اللہ جانے
پیاس کی کونسی منزل پہ تھی دکھیا جانے
یہ تو بس بالی سکینہ کا کلیجہ جانے
مشک پانی کی جدھر تھی وہ ادھر جاتی تھی
کھڑکیاں شمر جو دیتا تھا تو ڈر جاتی تھی
شمر نے خاک پہ۔۔۔
جس نے بالوں کو پکڑ کر کے طمانچے مارے
دونوں کانوں کی لویں چیر کے چھینے بندیں
جس نے برسایا یتیمہ پہ مسلسل درے
خالی کوزے کو لیےء آی جب اس کے آگے
ڈر یہ کہتا تھا سکینہ سے نہ مانگو پانی
پیاس کہتی تھی بس اب جلد پلا دو پانی
شمر نے خاک پہ۔۔۔
سامنے شمر کے لے کر کے گیء جب کوزہ
ڈانت کر بالی سکینہ کو یہ ظالم بولا
پہلے سیراب سنو شام کا لشکر ہوگا
پھر یہ امید دلائی کی تمہیں بھی دونگا
اپنے حیوانوں کو ظالم نے پلایا پانی
اور یتیمہ کو دکھا کر کے بہایا پانی
شمر نے خاک پہ۔۔۔
آس جب توڑ دی بچی کی ستمگروں نے
اور ایک ظلم کیا بڑھ کے جفا کاروں نے
کھینچ کر بالوں سے بیکس کو گنہگاروں نے
خاک پر پھینک دیا زور سے بد کاروں نے
اور یہ کہنے لگے آواز لگاؤ اس کو
جس دلاور کی دلاری ہو بلاؤ اس کو
شمر نے خاک پہ۔۔۔
وہ مصائب وہ قیامت وہ مصیبت وایض
کون لکھے گا یتیمہ کی وہ غربت وایض
تھی عجب دختر شبیر کی حالت وایض
لے گیء قبر تلک پیاس کی شدت وایض
آج تک مجھکو روایت میں کہیں یہ نہ ملا
پانی کب اور کہاں بالی سکینہ نے پیا
شمر نے خاک پہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.