Mashkeeza e sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Kashif Raza
مشکیزئہ سکینہ کہتا ہے علقمہ سے
خیموں میں تشنگی ہے اصغر بہت ہیں پیاسے
مشکیزئہ سکینہ ۔۔۔
سوکھے ہوئے لبوں پر لکھی ہے یہ کہانی
ہے آلِ مصطفیٰ پر ہفتم سے بندھ پانی
اے کاش روک دیتا کوئی تیری روانی
آوازِ العتش ہے ہر سمت ہر فضا سے
مشکیزئہ سکینہ ۔۔۔
ہر کشتِ آرزو کو بے آب کر گئی ہے
اہلِ حرم میں سب کو بیتاب کر گئی ہے
اکبر کے خون سے برچھی سیراب کر گئی ہے
گھر کے چراغ بھی اب بجھنے لگے ہوا سے
مشکیزئہ سکینہ ۔۔۔
حسرت سے تک رہا ہے بے دست اپنے بازو
رکھے تو کیسے رکھے جذبات پر وہ قابو
چہرے پہ بہہ رہے ہیں چشمِ جری کے آنسُو
وابستہ سب اُمیدیں بچی کی ہیں چچا سے
مشکیزئہ سکینہ ۔۔۔
عرشِ بریں ہے لرزا انسانیت ہے گُم سُم
روکا گیا کچھ ایسے شبیر کا تکلم
ہچکی کے ساتھ اُبھرا پھر خوں بھرا تبسم
غنچہ جھُلس گیا ہے پیکانِ حرملا سے
مشکیزئہ سکینہ ۔۔۔
شاہد ہے غم کا منظر وہ شدتِ عتش ہے
تڑپیں گے کیسے سرور وہ شدتِ عتش ہے
رُکنے لگا ہے خنجر وہ شدتِ عتش ہے
شرمندہ تشنگی ہے مظلومِ کربلا سے
مشکیزئہ سکینہ ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.