Gham may baysheer
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas recited by Mirza Sikander Ali
غم میں بے شیر کے ہوتا ہے کلیجہ پانی
جب بھی سُنتے ہیں کے شبیر نے مانگا پانی
کربلا میں کوئی انسان نہیں تھا ورنہ
وقتِ ذبح تو کوئی شہہ کو پلاتا پانی
دستِ عباس کٹے مشک چھِدی پیاسوں کی
روزِ عاشورہ ہوا خون کا پیاسا پانی
اک علی اصغرِ معصوم کے دو ہیں قاتل
تیر نے قتل کیا جان سے مارا پانی
فطرتاً تشنہ دہانی ہے اسی سے ثابت
ذکر پیاسوں کا چھڑا آنکھ سے نکلا پانی
قاتلوں ہی کی طرح دشمنِ جانی نکلا
تھا سکینہ کے لیے پیاس کا دریا پانی
جو کھلاتے نہیں بے درد دوا عابد کو
کب پلائیں گے وہ بیمار کو ٹھندا پانی
نقش ہے شہہ کی وصیت علی فطرت دل پر
یاد کر لینا مجھے جب کبھی پینا پانی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.