Shaam walo na satao
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
شام والوں نہ ستاو
کہتاتھا مہاری غربت پہ ہماری ہنس کر نہ رلاو
سر چچا کا میرے اس واسطے گرجاتا ہے
انکوبہنوں کا کھلا سر جو نظر آتا ہے
غیور کے سر کو للہ نہ لوگوں نیزے پہ اُٹھاؤ
شام والوں ۔۔۔
کیا کیا نہ ستم ڈھائے ہیں ہم پر تم نے
حد یہ ہے چھین لی تطہیرکی چادر تم نے
اب تم وہی چادر نیزے پہ اُٹھاکر ہم کو نہ دکھاؤ
شام والوں ۔۔۔
ہم اولی الامر ہیں شاید یہ نہیں تم کو خبر
ہم اگر چاہیں تو برسیں ابھی تم پر پتھر
مجبور سمجھ کر ہائے تم آلِ نبی پر پتھر نہ گراؤ
شام والوں ۔۔۔
کیسے نیزے پہ اُٹھایا گیا سر اصغر کا
کیسے پامال کیا ابنِ حسن کا لاشہ
یہ ظلم کے قصے مت سامنے جاکے ماووں کو سناؤ
شام والوں ۔۔۔
شامِ عاشور سے یہ سوئی نہیں ہے اب تک
میں تو رویا ہوں یہ روئی بھی نہیں ہے اب تک
تم مارلو مجھ کو ہائے پر میری پھپی کو درے نہ لگاؤ
شام والوں ۔۔۔
راستے بھر یہ ٹرپتے رہے پانی کے لئے
تم کو معلوم نہیں کب سے ہیں پیاسے بچے
بچوں کو دکھا کر اس طرح زمیں پر پانی نہ بہاؤ
شام والوں ۔۔۔
آج بٹتی ہے وہاں نام پہ زینب کے ردا
کل تکلم وہاں بیمار میرا کہتا رہا
یہ آلِ نبی ہیں ہائے تم ایسے نہ ان کو بے پردہ پھراؤ
شام والوں ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.